پیوٹن ٹرمپ شی ملاقات: ایپک میں سہ فریقی بات چیت؟
روس، امریکہ اور چین کے صدور کی ممکنہ سہ فریقی ملاقات پر کام جاری ہے، لیکن یہ ملاقات ابھی حتمی نہیں ہوئی ہے۔ اے نیوز کی 3 نومبر کی رپورٹ کے مطابق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ اس ملاقات کے انعقاد پر کام ہو رہا ہے۔ یہ ملاقات ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (ایپک) سربراہی اجلاس کے موقع پر چین کے شہر شینزن میں 18 تا 19 نومبر کو ہو سکتی ہے، جہاں تینوں ممالک رکن ہیں۔
رپورٹ کے مطابق واشنگٹن، بیجنگ اور ماسکو سے واقف ذرائع نے بتایا ہے کہ عہدیداروں کے درمیان اس ملاقات کے بارے میں سنجیدہ بات چیت ہو رہی ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ تینوں فریق ایک ساتھ بات کر رہے ہیں یا بیجنگ واشنگٹن اور ماسکو کے ساتھ الگ الگ دو طرفہ بات چیت کر رہا ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ بیجنگ صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی ملاقات کے حوالے سے متعلقہ فریقوں سے رابطے میں ہے، لیکن اس نے ٹرمپ کو شامل کرنے والی سہ فریقی ملاقات کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ وہ سہ فریقی ملاقات آگے بڑھائے یا نہیں۔
کریملن کا محتاط موقف
پیسکوف نے پیر کو صحافیوں کو بتایا کہ صدر پیوٹن کے ایپک سربراہی اجلاس کا شیڈول ابھی تیار ہو رہا ہے، اور سہ فریقی ملاقات کے بارے میں کوئی مخصوص معلومات نہیں ہیں۔ بنگلہ دیش سنگباد سنگستھا (بی ایس ایس) کی خبر رساں ایجنسی فرانس پریس کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق پیسکوف نے کہا کہ چونکہ تینوں سربراہان چین میں ہونے والے اجلاس میں شریک ہو سکتے ہیں، اس لیے اس ممکنہ ملاقات کا موضوع زیر بحث ضرور آیا ہے، لیکن ملاقات یا اس کے ایجنڈے کے بارے میں کوئی ٹھوس تجویز یا معاہدہ زیر بحث نہیں آیا۔
کریملن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کا کوئی حتمی معاہدہ کیف کی شرکت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق پیوٹن اس اجلاس کو یوکرین جنگ پر بات چیت کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں اور ماسکو کے حق میں امن معاہدے کی امید رکھتے ہیں، لیکن یہ رپورٹ ذرائع کے حوالے سے ہے، کوئی سرکاری اعلان نہیں۔
چین کی ہچکچاہٹ اور جرمن صدر کا دعویٰ
کیف انڈیپنڈنٹ کی 2 نومبر کی رپورٹ کے مطابق جرمن صدر فرینک والٹر اسٹائن مائر نے بیجنگ میں چینی صدر سے ملاقات کے بعد کہا کہ شی جن پنگ نے یوکرین پر روس اور امریکہ کے ساتھ تین طرفہ سربراہی اجلاس کی میزبانی میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ ان کے مطابق شی نے یہ موقف اختیار کیا کہ یوکرین جنگ بنیادی طور پر ایک یورپی تنازع ہے، جس میں یورپی ممالک کی موجودگی ضروری ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اکتوبر میں کہا تھا کہ اگر صدر شی چاہیں تو وہ سہ فریقی اجلاس میں شریک ہوں گے، اور اس اجلاس کا مرکز جوہری ہتھیاروں اور ڈی نیوکلیرائزیشن ہوگا۔ کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ کسی بھی فریق نے ایپک کے موقع پر پیوٹن، ٹرمپ اور شی کی ملاقات کو خارج نہیں کیا ہے، اور پیوٹن و شی کی دو طرفہ ملاقات کی تیاریاں جاری ہیں۔
ابھی کیا طے ہے اور کیا نہیں؟
خلاصہ یہ ہے کہ سہ فریقی ملاقات کا خیال زیر بحث ہے، دو طرفہ پیوٹن شی ملاقات کی تیاری ہو رہی ہے، لیکن سہ فریقی ملاقات کی تاریخ، شرکا کی حتمی فہرست اور ایجنڈا — یوکرین جنگ ہو یا جوہری ہتھیاروں کی کمی — ابھی طے نہیں ہوا۔ ایپک اجلاس 18 اور 19 نومبر کو شینزن میں ہوگا، اور اس سے پہلے آنے والے دنوں میں ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ تینوں رہنما ایک میز پر بیٹھتے ہیں یا نہیں۔
مزید عالمی خبروں کے لیے دیکھیں: یوکرین امدادی مرکز پر حملہ (https://niazitvnews.com/?p=3427) اور امریکہ کا ایران کے جزیرہ قشم پر خفیہ حملہ (https://niazitvnews.com/?p=3430)۔
ذرائع: اے نیوز، بی ایس ایس/اے ایف پی اور کیف انڈیپنڈنٹ کی 2 تا 3 نومبر 2026 کی رپورٹس۔