چین عمان معاہدے: 14 دستاویزات اور کرنسی سویپ
چین عمان معاہدے: 14 دستاویزات اور کرنسی سویپ
چین اور عمان نے پیر 2 نومبر 2026 کو بیجنگ میں 14 تعاون دستاویزات اور ایک کرنسی سویپ معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ معاہدے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق کے چین کے تاریخی سرکاری دورے کے دوران طے پائے، جو 1978 میں سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد کسی عمانی سربراہ کا پہلا دورہ ہے۔ دونوں رہنماؤں نے خلیج کو بڑی طاقتوں کی کشمکش کا میدان بنانے کے خلاف بھی خبردار کیا۔
بیجنگ میں کیا طے پایا؟
عمانی خبر رساں ادارے (او این اے) کے مطابق کرنسی سویپ معاہدہ عمان کے مرکزی بینک اور پیپلز بینک آف چائنا کے درمیان ہوا، جس کی مالیت، مدت اور شرائط ظاہر نہیں کی گئیں۔ اس کے علاوہ 14 مفاہمتی یادداشتوں اور تعاون پروٹوکولز پر دستخط ہوئے، جن میں سبز سرمایہ کاری، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، سائنس و ٹیکنالوجی، خلائی تحقیق، بیڈو سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹم، مرکزی بینک کی ڈیجیٹل کرنسیاں، صنعتی سپلائی چین، سیکیورٹیز اور فیوچر مارکیٹس میں ضابطہ کاری، اور چین کو خشک کھجوروں کی برآمد کے لیے معائنہ و قرنطینہ کی شرائط شامل ہیں۔ عمان انویسٹمنٹ اتھارٹی نے الگ سے بیجنگ میں منعقدہ عمان چین فورم کے دوران چینی اداروں اور کمپنیوں کے ساتھ 23 معاہدے، تعاون کی یادداشتیں اور اسٹریٹجک و سرمایہ کاری شراکتیں بھی طے کیں۔ ان معاہدوں کی مالیت اور کمپنیوں کے نام بھی ظاہر نہیں کیے گئے۔
شی جن پنگ کا خلیج کے بارے میں پیغام
چینی صدر شی جن پنگ نے بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں سلطان ہیثم سے بات چیت کے دوران کہا کہ مشرق وسطیٰ اور خلیج میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں، اور خلیج کو بڑی طاقتوں کی حریفانہ سیاست کا میدان نہیں بننا چاہیے۔ سرکاری چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق دونوں رہنماؤں نے امریکا ایران جنگ بندی کا بھی مطالبہ کیا۔ دونوں ممالک نے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے اور عمان وژن 2040 کے درمیان ہم آہنگی گہری کرنے پر اتفاق کیا، اور توانائی، سرمایہ کاری، مالیات، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے کا عزم کیا۔ سلطان ہیثم نے قابل تجدید توانائی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، خلا، دفاعی صنعت اور لاجسٹکس میں تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔
ایران پر چینی سفارتکاری بھی تیز
عمان دورے کے ساتھ ہی چین نے ایران کے معاملے پر بھی سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے پیر کو بیجنگ میں ایک سینئر ایرانی سلامتی عہدیدار سے ملاقات کی، جبکہ چینی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ مشرق وسطیٰ کے لیے بیجنگ کے خصوصی ایلچی ژائی جون اس ماہ ایران، عمان اور سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ یہ سفارتی سرگرمی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکا ایران کشیدگی جاری ہے اور ایران کے آبنائے ہرمز دو دن میں کھولنے کے منصوبے جیسی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں، جبکہ عمان کے قریب آبنائے ہرمز پر آئل ٹینکر پر حملے نے خلیج کی سلامتی پر سوالات کھڑے کیے تھے۔ چین کی کوشش بظاہر یہ ہے کہ وہ خطے میں مکالمے کا راستہ کھلا رکھے اور اپنے توانائی و تجارتی مفادات کا تحفظ کرے۔
یہ دورہ کیوں تاریخی ہے؟
عمان اور چین کے سفارتی تعلقات 1978 میں قائم ہوئے تھے، اور اس کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ عمان کا کوئی سربراہ چین کا سرکاری دورہ کر رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق 14 دستاویزات، کرنسی سویپ اور 23 سرمایہ کاری شراکتوں کا پیکیج ظاہر کرتا ہے کہ مسقط اور بیجنگ اپنے تعلقات کو محض توانائی کی تجارت سے آگے لے جا کر مالیاتی، تکنیکی اور صنعتی شراکت داری میں بدلنا چاہتے ہیں۔
ذرائع: الجزیرہ، گلف نیوز، اومان آبزرور، ٹریبیون (انادولو/شنہوا) — 2 نومبر 2026۔