ڈاکٹروں کی ملک گیر دو روزہ ہڑتال آج سے شروع

0

پاکستان میں ڈاکٹروں کی تنظیموں کی جانب سے اعلان کردہ دو روزہ ملک گیر ہڑتال آج یکم نومبر سے شروع ہو رہی ہے، جو 2 نومبر تک جاری رہے گی۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) سمیت طبی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس دوران ایمرجنسی خدمات جاری رہیں گی، جبکہ او پی ڈی، نجی کلینکس اور معمول کی طبی خدمات معطل رہیں گی۔

ہڑتال کیوں ہو رہی ہے؟

ڈاکٹروں کا مطالبہ ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے نجی کلینکس پر چھاپے فوری بند کیے جائیں اور طبی غفلت کے الزام میں ڈاکٹروں کے خلاف براہ راست فوجداری مقدمات درج کرنے کا سلسلہ روکا جائے۔ 29 اکتوبر کو کراچی میں پی ایم اے ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران سینئر ڈاکٹروں نے کہا کہ ایف بی آر کا نجی کلینکس پر ریٹیل طرز کا پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) نظام نافذ کرنا بنیادی طور پر غلط اور غیر اخلاقی ہے۔

پی ایم اے سینٹر کے صدر ڈاکٹر اظہر احمد چوہدری اور سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عبدالغفور شورو کے مطابق ڈاکٹر پہلے ہی ٹیکس ادا کرتے ہیں، اور انہیں دیگر پیشہ ورانہ شعبوں کے مقابلے میں امتیازی سلوک کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ ڈاکٹروں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ کسی ڈاکٹر کے خلاف کوئی قانونی کارروائی اس وقت تک نہ ہو جب تک کسی مصدقہ آزاد میڈیکل بورڈ کی جانب سے معاملے کا جائزہ نہ لیا جائے، اور پارلیمنٹ ہیلتھ کیئر پروفیشنلز پروٹیکشن ایکٹ فوری منظور کرے۔

بلوچستان میں بھی ہڑتال

بلوچستان میں پی ایم اے کی صوبائی شاخ نے بھی یکم نومبر سے صوبہ گیر ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کر رکھا ہے۔ 28 اکتوبر کو کوئٹہ میں ڈاکٹر زارک محمد شاہی کی زیر صدارت مشترکہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہڑتال ایف بی آر اور بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی جانب سے ڈاکٹروں پر عائد کیے گئے غیر منصفانہ ٹیکسوں کے خلاف ہوگی۔ اجلاس میں صوبائی محکمہ صحت کے دیگر مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

یاد رہے کہ یہ تنازع نیا نہیں۔ 11 اکتوبر کو گجرات میں آل پاکستان میڈیکل کنونشن میں تقریباً 500 سینئر طبی ماہرین نے متفقہ طور پر قراردادیں منظور کی تھیں، جن میں حکومت سے یکم نومبر تک ٹھوس پالیسی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس کنونشن میں پی ایم اے سینٹر اور صوبائی شاخوں، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن، پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن، پاکستان اکیڈمی آف فیملی فزیشنز، پرائیویٹ ہاسپٹل ایسوسی ایشن اور پاکستان ڈینٹل ایسوسی ایشن کے نمائندے شریک تھے۔

مریضوں کے لیے کیا مطلب ہے؟

ہڑتال کے دوران مریضوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ معمول کے چیک اپ اور غیر ہنگامی علاج کے لیے ہسپتال جانے سے پہلے متعلقہ ادارے سے رابطہ کر لیں، کیونکہ او پی ڈی خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔ تاہم طبی تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ ایمرجنسی روم، انتہائی نگہداشت (آئی سی یو)، کارڈیک کیئر یونٹ اور جان بچانے والی دیگر خدمات بدستور جاری رہیں گی۔

ڈاکٹروں کی تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ کا لائحہ عمل 28 نومبر کو پی ایم اے سینٹرل کونسل کے اجلاس میں طے کیا جائے گا۔ اس سے قبل ڈاکٹروں کی ہڑتال کے اعلان پر تفصیلی خبر کا لنک یہ ہے: https://niazitvnews.com/?p=2719 جبکہ ملک میں پولیو مہم 2 نومبر سے شروع ہو رہی ہے، جس کا لنک یہ ہے: https://niazitvnews.com/?p=2896 حکومت اور طبی تنظیموں کے درمیان مذاکرات سے ہی اس تعطل کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔

ذرائع: ڈان (30 اکتوبر اور 28 اکتوبر 2026)، پرو پاکستانی (28 اکتوبر 2026)، میڈیکل نیوز۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *