ڈی جی آئی ایس پی آر: کے پی کی نااہل حکومت دہشت گردی کی سہولت کار

0

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کی نااہل اور لاتعلق صوبائی حکومت دہشت گردی کی سہولت کاروں میں شامل تھی، اور وہ عنصر جو صوبے میں انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہا تھا اب موجود نہیں ہے۔ انہوں نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو 30 اکتوبر 2026 کو دیے گئے انٹرویو میں پاکستان کی انسداد دہشت گردی حکمت عملی کی تفصیل بتائی، جس کی خبر 2 نومبر 2026 کو سامنے آئی۔

ان کے مطابق پاکستان کے پاس دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے واضح اور جامع حکمت عملی موجود ہے، جس کا ایک اہم جزو ملک کے اندر سرگرم دہشت گردوں اور ان کے تمام سہولت کاروں کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف روزانہ تقریباً 200 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کر رہی ہیں اور پاکستان اسی راستے پر آگے بڑھتا رہے گا۔

افغانستان دہشت گردی کا بنیادی مرکز

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کا بنیادی مرکز ہے، جہاں دہشت گرد قیادت، تربیتی کیمپ اور حملوں کی منصوبہ بندی کے مراکز موجود ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان اپنے تمام اندرونی مسائل کا ذمہ دار بیرونی عوامل کو قرار دینے کے نقطہ نظر کا قائل نہیں، اور دہشت گردی سے جڑے بعض اندرونی پہلوؤں کو بھی خود حل کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں کسی بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کی بجائے انٹیلیجنس کی بنیاد پر ٹارگٹڈ کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ ان کے بقول صوبے میں انسداد دہشت گردی آپریشنز کی کوئی مخالفت نہیں کرتا، مخالفت صرف وہ لوگ کرتے ہیں جن کے دہشت گردوں سے روابط ہیں۔

خیبر پختونخوا کے عوام نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ گزشتہ 20 برس کی لڑائی کے باعث پاکستان کو انسداد دہشت گردی کا وہ تجربہ حاصل ہے جو کسی اور ملک یا فوج کو حاصل نہیں، اور خیبر پختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے باعث سب سے زیادہ تکالیف برداشت کی ہیں۔ انہوں نے صوبے کے عوام کو بہادر اور پاکستانی معاشرے کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ وہ پائیدار امن اور استحکام کے مستحق ہیں۔

صوبائی حکومت کی تبدیلی سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ ایک سیاسی معاملہ ہے جس پر سیاست دان بہتر طور پر بات کر سکتے ہیں، تاہم ان کے پاس موجود معلومات کے مطابق حکومت کی تبدیلی آئینی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق ہوئی۔

بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے نشانے پر

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گرد اپنے سرپرستوں کے کہنے پر بلوچستان میں ترقی اور انفرااسٹرکچر کے منصوبوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق دہشت گرد گروہ نہ صرف کان کنی کی سرگرمیوں بلکہ ایل پی جی ٹرکوں، اسکولوں اور اساتذہ کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں، اور پلوں اور ریلوے لائنوں کو تباہ کر کے معاشی سرگرمیاں مفلوج کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد جان بوجھ کر ہر اس سرگرمی یا سہولت کو نشانہ بناتے ہیں جو مقامی آبادی کو روزگار اور معاشی بااختیاری فراہم کر سکتی ہے۔ یہ انٹرویو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبر پختونخوا میں 11 اکتوبر کو گورنر راج کے نفاذ اور صوبائی حکومت کی تبدیلی کے بعد صوبے کی سیاسی صورتحال پر بحث جاری ہے، اور اس سے متعلق مزید تفصیلات بھی سامنے آ رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: گوہر: عمران نے کے پی حکومت کے خاتمے کا خیرمقدم نہیں کیا اور سہیل آفریدی کیس لارجر بینچ کو بھیج دیا گیا۔

ذرائع: رائٹرز کو ڈی جی آئی ایس پی آر کا انٹرویو (30 اکتوبر 2026)، اے پی پی/اردو پوائنٹ، ڈیلی پٹریاٹ اور پاکستان ٹوڈے کی 2 نومبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *