کانگو میں ایبولا سے اموات 5 ہزار سے تجاوز کر گئیں
جمہوری جمہوریہ کانگو میں جاری ایبولا وبا سے مرنے والوں کی تعداد 5 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ ملک کی وزارت صحت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک 10,351 افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 5,026 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ یہ وبا کانگو کی تاریخ کی مہلک ترین ایبولا وبا بن چکی ہے اور دنیا بھر میں ریکارڈ کی گئی دوسری سب سے بڑی وبا ہے۔
وبا کی تازہ صورتحال
یہ وبا مئی 2026 میں شروع ہوئی تھی اور اب ملک کے 26 صوبوں میں سے 8 تک پھیل چکی ہے۔ وزارت صحت کے مطابق وبا 67 ہیلتھ زونز تک پہنچ چکی ہے جن میں سے 50 میں اب بھی نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ شرح اموات 48.6 فیصد ہے، یعنی متاثر ہونے والے تقریباً ہر دو میں سے ایک مریض کی موت ہو رہی ہے۔ اب تک 2,788 مریض صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔
وبا کا مرکز ملک کے شمال مشرقی صوبے اتوری میں ہے، جو ایک تنازع زدہ علاقہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے افریقہ دفتر کے مطابق وبا پر قابو پانے کے لیے کنٹرول اقدامات میں مزید تیزی، متاثرہ علاقوں تک بہتر رسائی اور مقامی آبادی سے رابطے کی ضرورت ہے۔ افریقہ سی ڈی سی کے اعداد کے مطابق تقریباً 80 فیصد نئے کیسز ایسے افراد میں سامنے آ رہے ہیں جو پہلے سے زیر نگرانی رابطوں کی فہرست میں شامل نہیں تھے، جس سے وبا پر قابو پانا مزید مشکل ہو گیا ہے۔
بندوبوگو وائرس اور علاج کی کمی
اس وبا کی وجہ بندوبوگو قسم کا وائرس ہے، جو ایبولا وائرس کی ان اقسام میں سے ایک ہے جو انسانوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اس قسم کے لیے تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج موجود نہیں، تاہم ویکسین کے امیدواروں پر کلینیکل ٹرائلز جاری ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے پروگرام منیجر ڈاکٹر پیٹرک اوٹم نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو میں کہا کہ 5 ہزار اموات کا ہندسہ محض ایک عدد نہیں بلکہ ایک المناک سنگ میل ہے۔
یہ وبا اگست 2026 میں ہی کانگو کی سابقہ مہلک ترین وبا سے آگے نکل گئی تھی۔ اس سے قبل 2018 سے 2020 کے دوران پھیلنے والی وبا میں 2,299 اموات ریکارڈ کی گئی تھیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق موجودہ وبا کانگو کی تاریخ کی 17 ویں ایبولا وبا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی ایبولا وبا 2014 سے 2016 کے دوران مغربی افریقہ میں پھیلی تھی جس میں 11,325 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
پڑوسی ممالک میں کیسز
وبا صرف کانگو تک محدود نہیں رہی۔ کینیا میں 23 اکتوبر تک 9 کیسز اور 2 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ یوگنڈا میں وبا کے آغاز کے فوراً بعد 20 کیسز اور 2 اموات رپورٹ ہوئیں، تاہم اگست کے بعد وہاں کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا۔ نائجیریا میں بھی کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔ امریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول کے مطابق 3 نومبر کی رات کے بعد امریکا جانے والی بین الاقوامی پروازوں کے مسافروں کو یہ تصدیق کرنا ہوگی کہ وہ گزشتہ 21 دنوں میں کانگو میں موجود نہیں تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وبا کی رفتار رسپانس سے تیز ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے نگرانی، رابطوں کی ٹریسنگ، علاج کی سہولتوں اور مقامی آبادی سے رابطے کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے، خاص طور پر ان مشکل علاقوں میں جہاں تک رسائی محدود ہے۔ وبا کی ابتدائی علامات میں اچانک بخار، سر درد، شدید تھکاوٹ، پٹھوں اور جوڑوں کا درد، گلے کی خراش، بھوک کی کمی اور سردی لگنا شامل ہیں۔
مزید تفصیل کے لیے پڑھیں: کانگو میں ایبولا کے کیسز 10 ہزار سے تجاوز کرنے کی خبر https://niazitvnews.com/?p=2320 اور کینیا میں ایبولا سے دوسری موت کی رپورٹ https://niazitvnews.com/?p=1698
ذرائع: کانگو وزارت صحت کے اعداد و شمار، ایسوسی ایٹڈ پریس (31 اکتوبر 2026)، بی بی سی اور عالمی ادارہ صحت کے بیانات۔