کراچی میں اسٹریٹ کرائم: 8 ماہ میں 39,098 وارداتیں

0

کراچی میں رواں سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران چوری اور چھیننے کی 39,098 وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔ سٹیزنز پولیس لائزن کمیٹی (سی پی ایل سی) کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے اگست 2026 تک موٹر سائیکلوں، کاروں اور موبائل فونز کی چوری و چھیننے کے واقعات شہر کے تقریباً ہر علاقے میں پیش آئے، اور یہ سلسلہ تاحال شہریوں کے لیے ایک سنگین سیکیورٹی چیلنج بنا ہوا ہے۔

موٹر سائیکلیں سب سے زیادہ نشانہ

اعداد و شمار کے مطابق آٹھ ماہ میں 21,553 موٹر سائیکلیں چوری ہوئیں جبکہ مزید 3,591 موٹر سائیکلیں اسلحے کے زور پر یا دیگر طریقوں سے چھینی گئیں۔ موبائل فون چھیننے کی 12,846 وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔ کاروں کے حوالے سے 973 گاڑیاں چوری اور 135 چھینی گئیں۔ اسی عرصے میں کراچی میں 356 قتل اور بھتہ خوری کے 89 مقدمات بھی درج ہوئے۔

گلوکارہ حمیرا چنا کی گاڑی چوری

29 اکتوبر کو معروف گلوکارہ حمیرا چنا کی گاڑی کراچی کے علاقے بہادر آباد چار مینار کے قریب چوری ہو گئی، جس کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر خبروں میں آ گیا۔ پولیس کے مطابق نیو ٹاؤن تھانے میں گاڑی چوری کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل اور ایس ایس پی ایسٹ سے رپورٹ طلب کی ہے اور گاڑی کی بازیابی اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے تمام تکنیکی وسائل استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔

متاثرہ علاقے اور شہریوں کی مشکلات

رپورٹ کے مطابق کورنگی، لانڈھی، اورنگی، گلشن اقبال، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی، کلفٹن اور گلستان جوہر سمیت مختلف علاقوں میں ڈکیتی اور گاڑی چوری کی وارداتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔ متاثرین میں طلبہ، ملازمین، کاروباری افراد اور پیشہ ور افراد شامل ہیں، جنہیں واردات کے فوری نقصان کے بعد بھی مالی مشکلات اور دیگر دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

2025 کے اعداد سے موازنہ — احتیاط ضروری

سی پی ایل سی کے مطابق پورے سال 2025 میں 38,513 موٹر سائیکلیں چوری، 6,419 چھینی گئیں اور 17,675 موبائل فون چھینے گئے تھے، جبکہ 1,859 کاریں چوری، 309 چھینی گئیں، 567 قتل اور بھتہ خوری کے 100 مقدمات درج ہوئے تھے۔ تاہم 2025 کے اعداد پورے سال کے ہیں جبکہ 2026 کے اعداد صرف جنوری تا اگست کے ہیں، اس لیے دونوں کا براہ راست موازنہ درست نہیں ہوگا۔

بھتہ خوری کے اعداد پر پولیس کا موقف

دوسری جانب کراچی پولیس کے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) نے سوشل میڈیا اور بعض اخبارات میں بھتہ خوری کے واقعات میں 100 فیصد اضافے کے دعووں کو مسترد کر دیا ہے۔ یونٹ کے مطابق اس کی تفتیش کردہ بھتہ خوری کے مقدمات 2025 میں 178 سے کم ہو کر 2026 میں 136 رہ گئے ہیں، جبکہ پولیس مقابلوں میں 2026 میں 15 مبینہ بھتہ خور ہلاک ہوئے جو 2025 میں 6 تھے، اور زخمی حالت میں گرفتار ملزمان کی تعداد 16 سے بڑھ کر 25 ہو گئی۔

یہ بھی واضح رہے کہ رپورٹ شدہ اعداد صرف درج شدہ واقعات کو ظاہر کرتے ہیں؛ ان سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کتنے ملزمان گرفتار ہوئے، کتنی مسروقہ اشیا برآمد ہوئیں یا کتنے مقدمات منطقی انجام تک پہنچے، اور وہ جرائم بھی ان میں شامل نہیں جن کی متاثرین نے رپورٹ ہی نہیں کی۔

کراچی میں اس سے پہلے بھی اسٹریٹ کرائم کے واقعات خبروں میں رہے ہیں، جن میں ڈی ایچ اے میں اسلحہ لہرا کر شہریوں کو ہراساں کرنے کی وائرل ویڈیو (https://niazitvnews.com/?p=2419) اور 59 خواتین کے موبائل لوٹنے والے ملزم کی گرفتاری (https://niazitvnews.com/?p=2134) شامل ہیں۔

ذرائع: پاکستان آبزرور، 99 نیوز، اردو پوائنٹ (اے پی پی) — 30 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *