کھاد کی قلت — گیس بندش سے 2 لاکھ ٹن سے زائد یوریا کم ہو گیا
قومی اسمبلی کو جمعہ 30 اکتوبر 2026 کو بتایا گیا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث گیس کی فراہمی متاثر ہوئی، جس سے ملک میں دو یوریا پلانٹ عارضی طور پر بند رہے اور کھاد کی دستیابی میں 2 لاکھ ٹن سے زائد کی کمی واقع ہوئی۔ پارلیمانی سیکرٹری شائستہ خان نے سوالوں کے وقفے کے دوران ایوان کو بتایا کہ اس کمی سے مارکیٹ میں کھاد کی قلت کے مسائل پیدا ہوئے ہیں، جو زرعی پیداوار کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
ایوان کو کیا بتایا گیا
سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق پارلیمانی سیکرٹری نے ایوان کو بتایا کہ زرعی پیداوار کا انحصار کھاد کی دستیابی پر ہے، اس لیے کھاد کی قیمت اور فراہمی میں کسی بھی کمی بیشی پر حکومت کو تشویش ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کھاد کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات پر بھی انحصار کر رہی ہے اور ملک کی تقریباً 50 فیصد ضروریات بیرون ملک سے پوری کی جا رہی ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے بحران کے باعث عالمی مارکیٹ میں بھی کھاد کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، جس سے درآمدی کھاد مہنگی ہوئی ہے۔
کسانوں کے لیے اس کا مطلب کیا ہے
کھاد کی قلت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں ربیع کی فصل کی بوائی کا موسم چل رہا ہے اور گندم سمیت دیگر فصلوں کے لیے یوریا کی طلب سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ یوریا کی کمی سے پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے، کیونکہ یوریا فصل کی نشوونما کے لیے بنیادی غذائی جز ہے۔ اسی لیے ربیع سیزن میں پانی کی کمی کی خبر کے ساتھ کھاد کی قلت کسانوں کے لیے دوہری تشویش بن گئی ہے، جبکہ ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے نے بھی دیہی گھرانوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ کسانوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ کھاد سرکاری نرخوں پر مستند ڈیلرز سے خریدیں اور ذخیرہ اندوزی یا مہنگے داموں فروخت کی شکایت متعلقہ حکام کو دیں۔
حکومت کا ردعمل اور آئندہ اقدامات
پارلیمانی سیکرٹری کے مطابق وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کسانوں کی ضروریات کو ترجیح دیتی ہے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے مختلف منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں، جن میں کسانوں کو آسان قرضوں کی فراہمی بھی شامل ہے تاکہ وہ اپنی زرعی ضروریات پوری کر سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (نارک) میں نئی بیجوں کی اقسام کی تیاری اور تحقیق پر کام جاری ہے، اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے گندم اور پانی کی کمی کے حالات سے ہم آہنگ بیجوں پر تحقیق کی جا رہی ہے۔
خیبر پختونخوا میں گندم کا معاملہ
ایک ضمنی سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں گندم میں ریت اور مٹی کی ملاوٹ کے معاملے پر متعلقہ وزیر نے کارروائی کی ہے اور غیر معیاری گندم کی فراہمی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔ یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ گندم ملک کی بنیادی غذائی جنس ہے اور اس کے معیار پر کوئی سمجھوتہ عوامی صحت اور فوڈ سیکیورٹی دونوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ ایوان کو بتایا گیا کہ اس معاملے میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا عمل جاری ہے۔
ذرائع: اے پی پی بذریعہ اردو پوائنٹ، 30 اکتوبر 2026۔