کیچ آپریشن: دہشت گرد ہلاک، 2 خواتین محفوظ
بلوچستان کے ضلع کیچ میں سیکیورٹی فورسز کے ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں ایک دہشت گرد ہلاک ہو گیا، جب کہ دو خواتین کو یرغمال بنانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ آپریشن کیچ کے علاقے میناز میں آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت کیا گیا، اور علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے میناز کے علاقے میں ناکہ بندی قائم کرنے کی کوشش کی تھی اور اس دوران وہ دو خواتین کو بھی اپنے ساتھ لے جا رہے تھے۔ سیکیورٹی فورسز نے فرار ہونے والے دہشت گردوں کا تعاقب کیا، جس کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد ہلاک ہو گیا۔ ہلاک دہشت گرد کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے، جیسا کہ سیکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے۔
صدر اور وزیراعظم کا خراج تحسین
صدر آصف علی زرداری نے اس آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر نے دہشت گرد کے خاتمے اور دو خواتین کے اغوا کی کوشش ناکام بنانے پر فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ صدر نے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کے آپریشن جاری رہیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کو سراہا ہے۔ ان کے بیان کے مطابق فورسز نے بروقت کارروائی کر کے بے گناہ خواتین کی حفاظت یقینی بنائی اور ایک بزدلانہ یرغمال بنانے کی کوشش کو ناکام بنایا۔ وزیراعظم نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رہیں گے۔
آپریشن ردالفتنہ 3 کیا ہے؟
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن ردالفتنہ 3 بلوچستان میں جاری انسداد دہشت گردی مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد صوبے میں سرگرم دہشت گرد گروپوں کا خاتمہ ہے۔ وفاقی حکومت نے گزشتہ سال بلوچستان میں سرگرم تمام دہشت گرد گروپوں کو فتنہ الہندوستان قرار دیا تھا اور ان پر بھارت کی سرپرستی کا الزام عائد کیا تھا۔ یہ الزام حکومت کا موقف ہے، جس پر بھارت کی جانب سے ماضی میں تردید سامنے آتی رہی ہے۔
قومی اسمبلی کو ایک روز قبل بتایا گیا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے رواں سال کے پہلے نو ماہ میں 5,143 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 2,410 دہشت گردوں کو ہلاک کیا، جب کہ 806 زخمی ہوئے اور 3,518 کو گرفتار کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کیے گئے تھے۔
علاقے میں صورتحال
کیچ کا علاقہ میناز، جو بولیدہ کے علاقے میں واقع ہے، اس آپریشن کے بعد بھی سیکیورٹی فورسز کی توجہ کا مرکز ہے۔ ذرائع کے مطابق علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ وہاں موجود کسی بھی دیگر دہشت گرد کا خاتمہ کیا جا سکے۔ حکام نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ آپریشن میں کتنے دہشت گرد شامل تھے اور فرار ہونے والوں کی تعداد کیا ہے، اس لیے ان نکات پر حتمی اعداد کا انتظار کرنا ہوگا۔
یہ واقعہ بلوچستان میں جاری سیکیورٹی چیلنجز کی ایک اور کڑی ہے، جہاں حالیہ دنوں میں جعفر ایکسپریس پر حملہ اور دیگر واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں۔ صوبے میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز اور دہشت گرد حملوں کا سلسلہ متوازی طور پر جاری ہے۔
مزید پڑھیں: جعفر ایکسپریس پر راکٹ حملہ، مسافر محفوظ رہے اور نوشکی حملہ: 2 طالبات شہید، بگٹی کا انصاف کا وعدہ۔
ماخذ: اے پی پی، ٹریبیون، دنیا نیوز اور 24 نیوز، 29 اکتوبر 2026۔