گلگت بلتستان ترقیاتی منصوبے تیز کرنے کا حکم
وزیراعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان میں جاری وفاقی ترقیاتی منصوبوں کو تیز کرنے اور ان کے لیے فنڈز بروقت جاری کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ وزیراعظم نے جمعے کو اسلام آباد میں ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو تمام رکاوٹیں ترجیحی بنیادوں پر دور کرنے کا حکم دیا۔ اجلاس میں گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ امجد حسین بھی شریک ہوئے۔
اجلاس میں کیا فیصلے ہوئے
سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد تیز کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے خاص طور پر توانائی کے شعبے سے متعلق منصوبوں کی باقاعدہ نگرانی کی ہدایت بھی کی۔ اجلاس میں جولائی میں وزیراعظم کی ہدایت پر قائم کی گئی کمیٹی کی رپورٹ بھی پیش کی گئی، جس میں جاری وفاقی منصوبوں کی صورتحال، ان کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور بروقت تکمیل کے لیے درکار اقدامات کا جائزہ لیا گیا تھا۔
توانائی منصوبے اجلاس کی توجہ کا مرکز
اجلاس میں گلگت بلتستان میں پن بجلی، بنیادی ڈھانچے اور شمسی توانائی کے منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے وفاقی حکومت کے شروع کردہ 100 میگاواٹ کے شمسی توانائی منصوبے کی جلد از جلد تکمیل کی ہدایت کی۔ اس کے علاوہ چین کے تعاون سے بننے والے نلتر پاور منصوبے کی تکمیل اور خطے میں ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی تنصیب پر بھی بات چیت ہوئی۔
مزید پڑھیں: گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ سولر منصوبے کا جائزہ
مزید پڑھیں: یوم سیاہ پر قومی اسمبلی اور جی بی اسمبلی کی قراردادیں
وزیراعظم کا متوقع دورہ
ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف یکم نومبر کو گلگت بلتستان کا دورہ بھی کر سکتے ہیں۔ گلگت بلتستان چین کے ساتھ جغرافیائی قربت اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے راستے میں واقع ہونے کی وجہ سے تزویراتی اہمیت رکھتا ہے۔ سی پیک چین کے سنکیانگ خطے کو گوادر بندرگاہ سے ملانے والا اہم منصوبہ ہے۔
پس منظر
گلگت بلتستان کے ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر کا معاملہ ماضی میں بھی زیر بحث آتا رہا ہے۔ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ خطے میں توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی تکمیل سے مقامی معیشت اور روزگار کو فروغ ملے گا۔ دوسری جانب بھارت سی پیک کے ان منصوبوں کی مخالفت کرتا رہا ہے جو اس کے مؤقف کے مطابق متنازع علاقوں سے گزرتے ہیں، تاہم پاکستان اس مؤقف کو مسترد کرتا ہے۔
ماخذ: پی ٹی آئی کے ذریعے دی ویک، 31 اکتوبر 2026؛ ریڈیو پاکستان۔