یونان: 15 سال سے کم بچوں پر سوشل میڈیا پابندی

0

یونان کی پارلیمنٹ نے 23 اکتوبر 2026 کو ایک ایسا بل منظور کر لیا ہے جس کے تحت 15 سال سے کم عمر کے بچے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال نہیں کر سکیں گے۔ یہ پابندی یکم جنوری 2027 سے نافذ ہوگی، اور یونان اس طرح بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگانے والے یورپی یونین کے پہلے ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔

پابندی کیوں لگائی گئی؟

یونانی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ والدین کے ساتھ کھڑی ہے تاکہ بچوں کو “لامتناہی اسکرولنگ” سے بچایا جا سکے، جو ان کی نیند، توجہ اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کی صلاحیت کو نقصان پہنچاتی ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ سوشل میڈیا کے الگورتھم اس طرح بنائے گئے ہیں کہ وہ عادت بن جاتے ہیں، اور بچوں کی ذہنی صحت و حفاظت پر ان کے اثرات کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ نے اس معاملے پر سخت قانون سازی کا فیصلہ کیا۔

عمر کی تصدیق کیسے ہوگی؟

نئے قانون کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کو عمر کی تصدیق کا قابلِ اعتماد نظام بنانا ہوگا۔ اس کے لیے سرکاری ایپلی کیشنز “کڈز والٹ” اور “Gov.gr والٹ” استعمال کی جا سکتی ہیں، یا کوئی اور ایسا حل جو قومی اور یورپی قوانین کے مطابق ہو۔ اہم بات یہ ہے کہ پلیٹ فارمز کو صرف یہ تصدیق ملے گی کہ صارف کی عمر 15 سال ہو چکی ہے یا نہیں — انہیں بچے کا نام، تاریخِ پیدائش یا کوئی اور ذاتی معلومات نہیں دی جائیں گی۔ اس طرح نجی معلومات کے تحفظ کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔

کمپنیوں کو کتنا وقت ملا؟

یونان کے وزیراعظم کیریاکوس مٹسوٹاکس نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے پاس عمر کی تصدیق کا نظام بنانے اور صارفین کی رازداری کے تحفظ کے لیے تقریباً ڈھائی ماہ کا وقت ہے۔ جو کمپنیاں ان تقاضوں پر عمل نہیں کریں گی، انہیں یورپی یونین کے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے تحت اپنے عالمی سالانہ کاروبار کا 6 فیصد تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ یہ ایک بڑی رقم ہے، اس لیے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے اس قانون کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔

پارلیمنٹ میں ووٹنگ کی صورتحال

قزاقستان کی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق یہ بل صرف حکمران جماعت نیو ڈیموکریسی کی حمایت سے منظور ہوا، جبکہ بڑی اپوزیشن جماعتوں نے اس کے خلاف ووٹ دیا یا ووٹنگ سے غیر حاضر رہیں۔ پارلیمنٹ میں اس بل پر بحث 16 گھنٹے سے زیادہ جاری رہی، جو اس موضوع کی حساسیت اور اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ وزیراعظم مٹسوٹاکس نے اس پابندی کا منصوبہ اسی سال اپریل میں پیش کیا تھا۔

دنیا میں کہاں کہاں ایسی پابندیاں ہیں؟

آسٹریلیا وہ پہلا ملک تھا جس نے گزشتہ سال بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا قانون منظور کیا تھا، وہاں حد 16 سال رکھی گئی ہے۔ فرانس میں بھی اسی طرح کا قانون منظور ہوا تھا، لیکن وہاں کی آئینی کونسل نے اسے اگست میں مسترد کر دیا تھا۔ یونان ان سات یورپی یونین ممالک میں بھی شامل ہے جو یورپی کمیشن کے ساتھ عمر کی تصدیق کا مشترکہ حل تلاش کر رہے ہیں، اور ایتھنز یورپ بھر میں بچوں کے تحفظ کے لیے ایک مشترکہ مؤقف کا مطالبہ بھی کر رہا ہے۔

ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس طرح کے قوانین پر بحث جاری ہے، جیسا کہ https://niazitvnews.com/?p=1249 میں چیٹ جی پی ٹی پر اشتہارات کے آغاز کی خبر دی گئی تھی، اور پاکستان میں اردو اے آئی ماڈل کے حوالے سے https://niazitvnews.com/?p=1605 میں بھی اس موضوع پر توجہ دی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یونان کا یہ فیصلہ دوسرے یورپی ممالک کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے، اور آنے والے مہینوں میں اس پر مزید بحث ہوگی کہ آیا اس طرح کی پابندیاں واقعی بچوں کی حفاظت کر سکتی ہیں یا نہیں۔

ماخذ: رائٹرز کی 23 اکتوبر 2026 کی رپورٹ، دی ہندو اور قزاقستان کی خبر رساں ایجنسی قازانفارم۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *