190 ملین پاؤنڈ کیس — وفاقی آئینی عدالت نے بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست مسترد کر دی
وفاقی آئینی عدالت نے القادر ٹرسٹ کے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بشریٰ بی بی کی 7 سالہ سزا معطل کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ 14 اکتوبر 2026 کو چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ مرکزی اپیل کا جلد فیصلہ ہونا چاہیے، اور علیحدہ معطلی کی کارروائی کے ذریعے متوازی راستہ نہیں نکالا جا سکتا۔
عدالت کا مؤقف
عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ کی پیچیدگی عارضی ریلیف کا جواز نہیں بنتی، اور اسلام آباد ہائی کورٹ کو ہدایت کی کہ دونوں فریقوں کو منصفانہ سماعت کا موقع دے اور غیر ضروری التواؤں کی حوصلہ شکنی کرے۔
وکیل کی دلائل
بشریٰ بی بی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے خواتین کے حوالے سے نرمی کی مثالوں کا حوالہ دیا، نواز شریف کیس کی نظیر پیش کی، اور مؤقف اپنایا کہ نیب 13 ماہ سے بار بار التواؤں لیتا رہا جبکہ درخواست کی مخالفت کرتا رہا۔ (یہ دلائل دفاع کے وکیل کے مؤقف کے طور پر دیے گئے ہیں۔)
کیس کا پس منظر
17 جنوری 2025 کو عمران خان کو 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے جبکہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی — یہ نیب کے ریفرنس کے مطابق الزامات تھے۔ دونوں کو 20 دسمبر 2025 کو توشہ خانہ-II کیس میں بھی 17، 17 سال کی سزا ہوئی، اور دونوں اس وقت اڈیالہ جیل میں ہیں۔
قانونی سفر
دونوں نے جولائی 2025 میں سزا معطلی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جسے مئی 2026 میں مسترد کر دیا گیا، اور جولائی 2026 میں وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی — جو اب مسترد ہو چکی ہے۔
ذرائع: ایکسپریس ٹریبیون (14 اکتوبر 2026)، اب تک (14 اکتوبر 2026)۔