آئی ایم ایف کا پاکستان سے منصفانہ ٹیکس نظام کا مطالبہ — جہاد اظہور: کم ٹیکس والے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا اور مراعات کا خاتمہ ضروری

0

آئی ایم ایف کا پاکستان سے منصفانہ ٹیکس نظام کا مطالبہ — جہاد اظہور: کم ٹیکس والے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا اور مراعات کا خاتمہ ضروری

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ ٹیکس مراعات کو معقول بنائے، کم ٹیکس ادا کرنے والے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لائے اور غیر متناسب ٹیکس بوجھ کم کرے — آئی ایم ایف کے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جہاد اظہور نے اسلام آباد میں دو روزہ ٹیکس اصلاحات ورکشاپ کے افتتاحی خطاب میں یہ مطالبہ کیا۔ یہ ورکشاپ “پاکستان میں جدید اور ترقی دوست ٹیکس نظام کے لیے اصلاحات” کے عنوان سے 20 اور 21 اکتوبر کو وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف کے اشتراک سے منعقد ہو رہی ہے۔

منصفانہ ٹیکس نظام کے تین ستون

جہاد اظہور نے اپنے خطاب میں کہا: “کم ٹیکس والے شعبوں کو درست کرنا، مراعات کو معقول بنانا اور غیر متناسب بوجھ کم کرنا منصفانہ ٹیکس نظام کے عناصر ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے معاشی استحکام کی بحالی میں “اہم پیش رفت” کی ہے، اور اب اگلا سنگ میل اس استحکام کو “مضبوط اور پائیدار ترقی” میں بدلنا ہے — جس کے لیے ٹیکس نظام کو سادہ، غیر جانبدار اور زیادہ متوقع بنانا ہوگا۔

انہوں نے ٹیکس بیس کو وسیع کرنے، محصولات کی انتظامیہ مضبوط بنانے، ٹیکس اخراجات اور رعایتیں کم کرنے اور ترجیحی عوامی اخراجات کے تحفظ پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس پالیسی میں تبدیلی کے ساتھ محصولات کی وصولی کی انتظامیہ کو بہتر بنانا بھی ناگزیر ہے — صرف پالیسی اصلاحات مضبوط عمل درآمد کے بغیر مطلوبہ نتائج نہیں دیں گی۔

چھ سیشنز کا ایجنڈا

ورکشاپ کا افتتاح وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے جہاد اظہور اور آئی ایم ایف کے فِسکل افیئرز ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر روڈریگو والڈیز کے ہمراہ کیا۔ ورکشاپ میں چھ سیشنز ہوں گے جن میں بہتر ٹیکس سے ترقی، ٹیکس نظام کی جدید کاری، وفاق اور صوبوں میں یکساں سیلز ٹیکس نظام، سادہ اور غیر جانبدار انکم ٹیکس، ٹیکس انتظامیہ کی ڈیجیٹلائزیشن اور مالیاتی وفاقیت جیسے موضوعات زیر بحث آئیں گے۔

پس منظر: سات ارب ڈالر پروگرام کا جائزہ

رواں ماہ کے اوائل میں آئی ایم ایف اسٹاف اور پاکستانی حکام کے درمیان 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کے چوتھے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تیسرے جائزے پر اسٹاف سطح کا معاہدہ طے پایا تھا، جبکہ 2026 کے آرٹیکل فور مشاورت بھی مکمل ہو چکی ہے۔ اظہور نے آئی ایم ایف کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ پاکستان کی ایسی معیشت کی تعمیر میں ساتھ دے گا جو زیادہ پیداواری ہو اور نوجوان نسل کے لیے بہتر مواقع پیدا کرے۔

ذرائع: پاکستان ٹوڈے / آئی ایم ایف ورکشاپ کوریج (20-21 اکتوبر 2026)، متعدد معاشی میڈیا رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *