ہمسفر کی ہسپانوی ریلیز پر سرمد کھوسٹ کا دلی دکھ — “کاش رائلٹی ملتی”؛ دوبارہ نشر پر فنکاروں کو پیسے کیوں نہیں ملتے
پاکستان کے مشہور ڈرامے “ہمسفر” کو ہسپانوی زبان میں ڈب کر کے نئے ناظرین تک پہنچانے کے اعلان نے ڈرامے کے ہدایتکار سرمد کھوسٹ کے لیے خوشی کے ساتھ ساتھ ایک پرانا دکھ بھی تازہ کر دیا ہے۔ سرمد کھوسٹ نے انسٹاگرام پر ہم ٹی وی کے اعلان کو شیئر کرتے ہوئے لکھا: “کاش رائلٹی ملتی” — اور ایک خالی چہرے والا ایموجی بھی لگایا۔ ان کا یہ ایک جملہ پاکستان کی تفریحی صنعت میں فنکاروں کے معاوضے کے نظام پر نئی بحث چھیڑ گیا ہے۔
رائلٹی کیا ہے اور معاملہ کیا ہے
رائلٹی وہ رقم ہوتی ہے جو اداکاروں، ہدایت کاروں، پروڈیوسروں اور دیگر تخلیقی افراد کو اس وقت ملتی ہے جب ان کا کام دوبارہ نشر ہو، کسی نئی زبان میں ڈب ہو کر تقسیم کیا جائے یا دوبارہ ریلیز ہو۔ معاہدے کے لحاظ سے یہ ادائیگیاں کئی بار کی نشریات پر بھی جاری رہ سکتی ہیں۔
پاکستان کی ٹیلی ویژن صنعت میں البتہ رائلٹی کا کوئی مستقل نظام موجود نہیں۔ یہ سلسلہ 1990 کی دہائی میں اس وقت ختم ہوا جب سرکاری ٹیلی ویژن پی ٹی وی کے دور میں کئی معروف اداکاروں نے مبینہ طور پر زیادہ معاوضے کے عوض رائلٹی کے حقوق سے دستبردار ہونے پر رضامندی ظاہر کر دی تھی۔ اس کے بعد نجی چینلوں نے بھی بڑی حد تک اسی روایت کو جاری رکھا۔
ماہرہ خان بھی یہی بات کہہ چکی ہیں
سرمد کھوسٹ سے پہلے “ہمسفر” کی ہی اداکارہ ماہرہ خان بھی یہ مسئلہ اٹھا چکی ہیں۔ انہوں نے مارچ میں اپنی فلم “آگ لگے بستی میں” کی تشہیر کے دوران کہا تھا کہ ان جیسے قائم فنکار یا فہد مصطفیٰ جیسے اداکار تو شاید رائلٹی کے بغیر گزارا کر لیں، لیکن جونیئر فنکاروں، تکنیکی عملے اور دیگر عملے کے افراد کو اکثر مالی غیر یقینی کا سامنا رہتا ہے اور انہیں اپنے کام سے طویل مدتی آمدنی کے کم مواقع ملتے ہیں۔
یہ بحث 2021 میں اس وقت مزید زور پکڑ گئی تھی جب اداکارہ نائلہ جعفری نے کینسر سے لڑتے ہوئے کہا تھا کہ رائلٹی کی رقم ان کے علاج کے اخراجات میں مددگار ہو سکتی تھی اور مشکل وقت میں مالی تحفظ فراہم کرتی۔ ان کی اپیل نے ان فنکاروں کی کمزوری پر روشنی ڈالی جو کامیاب پروجیکٹس میں حصہ تو ڈالتے ہیں لیکن جب وہ پروجیکٹس سالوں تک کمرشل قدر پیدا کرتے ہیں تو انہیں کوئی اضافی معاوضہ نہیں ملتا۔
سرمد کھوسٹ کا کامیاب سال
یہ تنازعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرمد کھوسٹ کا فلمی کیریئر عروج پر ہے۔ ان کی فلم “لالی” کا ورلڈ پریمیئر اس سال برلن فلم فیسٹیول میں ہوا — یہ برلنالے میں پریمیئر ہونے والی پہلی مکمل پاکستانی فیچر فلم ہے — اور کینیڈا کے موسیف فیسٹیول میں فلم نے اسپیشل جیوری پرائز سمیت متعدد ایوارڈز جیتے۔
“ہمسفر” کی ہسپانوی ریلیز ایک بار پھر پاکستان کی تفریحی صنعت کے لیے ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے: کیا دیرپا ٹیلی ویژن ہٹ بنانے والے لوگوں کو اس وقت بھی مالی فائدہ ملنا چاہیے جب ان کا کام برسوں بعد نئے ناظرین تک پہنچے؟
ماخذ
ایکسپریس ٹریبیون کی 21 اکتوبر 2026 کی رپورٹ اور سرمد کھوسٹ کی 20 اکتوبر 2026 کی انسٹاگرام اسٹوری سے مرتب۔