ورلڈ بینک کی بڑی پیش گوئی — اصلاحات تیز ہوئیں تو 2050 تک پاکستانیوں کی آمدنی تین گنا ہو سکتی ہے
ورلڈ بینک نے پاکستان کے لیے اپنی تازہ ترین پاکستان ڈیویلپمنٹ اپڈیٹ — “اٹیننگ اسکیپ ویلاسٹی” (اکتوبر 2026) جاری کر دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر اصلاحات کی رفتار تیز کر دی جائے تو 2050 تک پاکستانیوں کی آمدنی تین گنا ہو سکتی ہے۔ رپورٹ جمعرات 22 اکتوبر کو ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار نے جاری کی۔
معیشت کی موجودہ صورتحال — رپورٹ کے اعداد
رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں کی مستحکم میکرو اکنامک پالیسیوں نے معیشت کو استحکام دیا ہے، مشرق وسطیٰ تنازعے کے اثرات کے باوجود:
- جی ڈی پی نمو 3.7 فیصد — مالی سال 26 میں، مالی سال 25 کے 3.2 فیصد سے بڑھ کر
- ریکارڈ پرائمری فسکل سرپلس — جی ڈی پی کے 2.9 فیصد کے برابر
- مضبوط ترسیلاتِ زر — فارن ایکسچینج ریزروز کی بحالی
- 3 ارب ڈالر کا یوروبونڈ — پاکستان کی بین الاقوامی قرض منڈی میں واپسی
- ایس اینڈ پی اور موڈیز — دو بڑی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے کریڈٹ ریٹنگ اپگریڈ
تین گنا آمدنی کا فارمولا
ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان دوسرے کامیاب ممالک کی طرح جرات مندانہ اصلاحات اپنائے اور اپنی پالیسیوں اور اداروں کو اوسط درمیانے آمدنی والے ممالک کے معیار تک پہنچائے، تو سالانہ 6.2 سے 6.9 فیصد مستحکم نمو حاصل کی جا سکتی ہے — جو 2050 تک پاکستان کو ویتنام کی موجودہ آمدنی کی سطح تک پہنچا سکتی ہے۔
رپورٹ کے سرکردہ مصنف سبسٹین ایسِل کے مطابق میکرو استحکام حاصل تو ہو گیا ہے، لیکن مالی وسائل اور فارن ایکسچینج اب بھی محدود ہیں — نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے اسٹرکچرل اصلاحات معیارِ زندگی بڑھانے کا لازمی اگلا قدم ہے۔
انتباہ — فی کس نمو اب بھی رکی ہوئی ہے
بولورما امگابازار نے واضح کیا: “پاکستان نے استحکام بحال کرنے میں حقیقی پیش رفت کی ہے، اور مارکیٹس نے اس کا نوٹس لیا ہے — لیکن فی کس حقیقی نمو تقریباً 1.6 فیصد پر رکی ہوئی ہے۔ اصلاحات اب ناگزیر ہیں۔”
ذرائع: اے پی پی، میٹس گلوبل، بلوم پاکستان، دی اسٹینڈرڈ