ایف آئی اے کا اسلام آباد میں گردہ مافیا پر چھاپہ، 5 گرفتار

0

اسلام آباد — فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی (ہوٹا) کے ہمراہ وفاقی دارالحکومت میں غیر قانونی گردہ پیوندکاری کے ایک مبینہ نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق چھاپے کے دوران دس لاکھ روپے نقد، تین گاڑیاں برآمد کی گئیں جبکہ کروڑوں روپے مالیت کی جائیدادیں بھی منجمد کر دی گئیں۔

پی ڈبلیو ڈی سوسائٹی میں چھاپہ

ایف آئی اے کے مطابق کارروائی اسلام آباد کی پی ڈبلیو ڈی سوسائٹی میں کی گئی، جہاں ملزمان مبینہ طور پر رہائشی مکانات سے غیر قانونی ٹرانسپلانٹ کا یہ نیٹ ورک چلا رہے تھے۔ حکام کے مطابق ملزمان مریضوں سے فی ٹرانسپلانٹ 30 لاکھ روپے تک وصول کرتے، ایجنٹوں کے ذریعے عطیہ دہندگان کا انتظام کرتے اور جعلی طبی دستاویزات استعمال کرتے تھے۔

ایف آئی اے اسلام آباد زون کے اعلامیے کے مطابق ضبط شدہ جائیدادوں کی مالیت کے بارے میں مختلف اعداد سامنے آئے ہیں — زون کے اعلامیے میں ساڑھے آٹھ کروڑ سے زائد کی جائیدادوں کا ذکر ہے جبکہ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کی خبر میں یہ مالیت کہیں زیادہ بتائی گئی ہے۔ حکام کے مطابق حتمی مالیت کا تعین جاری تفتیش میں ہوگا۔

مقدمہ درج، تفتیش جاری

ایف آئی اے حکام کے مطابق اس کیس میں مقدمہ نمبر 60/2026 مورخہ 15 اکتوبر 2026 درج کیا گیا ہے اور گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک کے دیگر سہولت کاروں اور اس سے منسلک طبی عملے کے کردار کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ ہوٹا حکام کے مطابق انسانی اعضا کی غیر قانونی پیوندکاری ایک سنگین جرم ہے جس کی سزا قانون میں واضح طور پر درج ہے۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ عطیہ دہندگان کے استحصال کو روکنے کے لیے تمام ٹرانسپلانٹ مراکز کی نگرانی سخت کر دی گئی ہے اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر دی جائے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں

یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب قانون نافذ کرنے والے ادارے منظم جرائم کے خلاف متحرک ہیں۔ حال ہی میں راولپنڈی میں سول جج پر حملے کے کیس میں سات افراد کے خلاف مقدمہ درج ہوا تھا، جبکہ پنجاب میں وسیم عباس کیس کے مرکزی ملزم کی ہلاکت بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کی ایک کڑی تھی۔ ایف آئی اے حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اعضا کی پیوندکاری صرف منظور شدہ اسپتالوں اور قانونی طریقے سے کرائیں۔

ماخذ: ایف آئی اے اسلام آباد زون، ڈان، اے پی پی، جی ٹی وی نیوز، کیپٹل نیوز پوائنٹ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *