ترکیہ کا بڑا اعلان — لیبیا کی مشرقی اور مغربی حکومتیں جلد متحد ہوں گی

0

ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے کہا ہے کہ لیبیا کی حریف مشرقی اور مغربی انتظامیہ کو متحد کرنے کا وقت آ چکا ہے، اور اس بارے میں بہت جلد خوش خبری مل سکتی ہے۔ جمعہ کو استنبول میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے عندیہ دیا کہ دونوں جانب کی فوجوں کو ایک متحد قومی کمان کے تحت لایا جائے گا۔

فیدان نے کیا کہا؟

فیدان نے کہا: “اب ہم اس مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں مشرق اور مغرب کے اتحاد کو مستقل بنیادوں پر محفوظ کرنے کے حالات سازگار ہیں۔ دونوں جانب فوجی ڈھانچے موجود ہیں۔ ان ڈھانچوں کو ایک قومی فوج کے تحت متحد کرنے کی ضرورت ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ قومی اتحاد کا ایک اہم ستون یہ ہے کہ فی الحال دونوں جانب علیحدہ کنٹرول میں موجود فوجی یونٹس کو ایک چھتری تلے کیسے لایا جائے گا۔ فیدان نے امید ظاہر کی کہ اس مسئلے پر بہت جلد اعلان متوقع ہے — “انشاء اللہ، بہت جلد آپ کو ترکیہ کی طرف سے اس بارے میں بہت اچھی خبر ملے گی۔”

پس منظر: طرابلس اور مشرقی لیبیا

ترکیہ نے لیبیا میں سالوں تک جاری تنازع کے دوران طرابلس میں اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت کی بھرپور حمایت کی، تاہم حالیہ برسوں میں مشرقی لیبیا کی حکام کے ساتھ تعلقات نمایاں طور پر گرم ہوئے ہیں — سالوں کی دشمنی کے بعد یہ اہم پیش رفت ہے۔

منگل کو لیبیا کی مشرق پر مبنی پارلیمنٹ نے ترکیہ کے ساتھ سمندری حدود کا معاہدہ منظور کیا، جبکہ اسی معاہدے کو 2019 میں مسترد کر دیا گیا تھا۔ اس پیش رفت پر یورپی یونین بشمول اٹلی اور یونان نے تنقید کی ہے، اور مصر نے بھی اعتراض کیا ہے کہ یہ معاہدہ بحیرہ روم میں اس کے حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

سمندری معاہدے پر بات چیت

فیدان نے سمندری حد بندی کے معاہدے پر بھی بات کی اور کہا کہ ترکیہ اس معاملے میں تعمیری موقف پر ہے: “ترکیہ، اٹلی اور مصر اکٹھے بیٹھ کر مصر کے تحفظات اور لیبیا کے تحفظات پر بات کر سکتے ہیں۔” 2019 میں طے پانے والا یہ معاہدہ بحیرہ روم میں دونوں ملکوں کے سمندری دائرہ اختیار کی حد بندی کرتا ہے۔ بعد ازاں جمعہ کو ہی ترک وزیر دفاع یاسر گولر نے بھی اعلان کیا کہ سمندری حدود کے سوال پر مصر کے ساتھ معاہدے کی تیاری ہے۔

پاکستان کے لیے کیوں اہم؟

لیبیا کا استحکام اور ترکیہ کی بڑھتی ہوئی علاقائی کردار پاکستان کے لیے بھی دلچسپی کا باعث ہے، کیونکہ انقرہ اسلام آباد کا قریبی شراکت دار ہے اور مکہ دفاعی معاہدے کا بھی رکن ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تبدیلیاں آر4 اعلامیے کے تناظر میں بھی دیکھی جا رہی ہیں، جس میں علاقائی استحکام پر زور دیا گیا تھا۔

ذرائع: ایکسپریس ٹریبیون (اے ایف پی)، ٹی آر ٹی ورلڈ، عرب نیوز، 24 نیوز ایچ ڈی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *