ٹائیگر شروف فائرنگ: شوٹرز کو ہینڈلرز کی لائیو اپڈیٹس

0

بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کے کیس میں ممبئی پولیس کے ذرائع نے ہفتے کے روز دعویٰ کیا ہے کہ فرار ہونے والے تین ملزم شوٹرز کو ان کے ہینڈلرز نیوز چینلز کی کوریج کے ذریعے پولیس تفتیش کی لائیو اپڈیٹس دیتے رہے، جس سے وہ اپنا فرار کا راستہ بار بار تبدیل کرتے رہے۔

“تمہارے چہرے آ گئے ہیں، نکل جاؤ وہاں سے”

کرائم برانچ کے ذرائع کے مطابق فرار کے دوران ایک موقع پر جب نیوز چینلز نے حملے کی ویڈیوز نشر کیں، تو ایک ملزم کو موبائل فون پر فوری ہدایت ملی: “تمہارے چہرے آ گئے ہیں، نکل جاؤ وہاں سے”۔ پولیس کے مطابق ہینڈلرز خفیہ وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول (VoIP) ایپس کے ذریعے ملزمان سے رابطے میں تھے۔

ڈیجیٹل شواہد کے تجزیے سے پتا چلا ہے کہ ملزم ریحان سگنل یا زنگی جیسی ایپس کے ذریعے مسلسل رابطے میں تھا، جن کے لیے موبائل نمبر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اندھیری میں ملزمان کی موٹرسائیکل کی برآمدگی اور ان کے ٹرین کے سفر کی میڈیا رپورٹس بھی فوری طور پر شوٹرز تک پہنچا دی گئیں۔

موٹرسائیکل سے ٹرین، پھر ٹیکسی اور سورت کا منصوبہ

پولیس ذرائع کے مطابق اس مسلسل معلومات کے بہاؤ کی وجہ سے تینوں ملزمان نے بار بار سواری تبدیل کی — موٹرسائیکل سے ٹرین، پھر ٹیکسی، اور پھر سورت سے بس پکڑنے کا منصوبہ بنایا۔ سورت بس ٹرمینل پر تاخیر کے باعث وہ دوبارہ ٹرین میں سوار ہوئے، جہاں ممبئی پولیس کی فوری اطلاع پر کوٹہ پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔

حملہ، گرفتاریاں اور 31 اکتوبر تک ریمانڈ

18 اکتوبر کی شام ممبئی کے جوہو علاقے میں ٹائیگر شروف کی گاڑی پر متعدد گولیاں چلائی گئیں تھیں۔ اداکار نسبتاً محفوظ رہے، جبکہ ان کے ڈرائیور اور ایک ولاگر زخمی ہوئے تھے۔ تین مرکزی ملزمان — پھول سنگھ (18)، ریحان رحیث الدین انصاری (18) اور رتھک ماہتو (22) — کو 19 اکتوبر کو کوٹہ سے ٹرین سے گرفتار کیا گیا تھا اور وہ 31 اکتوبر تک پولیس ریمانڈ پر ہیں۔

مجموعی طور پر راجستھان، اتر پردیش اور ہریانہ سے دس افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں، جبکہ 23 اکتوبر کو تین مزید ملزمان سمیر، جتن اور انکت کھاٹک کو سونی پت سے ممبئی لایا گیا۔ ممبئی پولیس نے گینگسٹر انیل پنڈت کو اس کیس میں مطلوب ملزم نامزد کیا ہے، جو پولیس کے مطابق امریکا سے کام کرنے والا لارنس بشنوئی گینگ کا مبینہ ساتھی ہے اور اس نے سوشل میڈیا پوسٹ میں حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ کرائم برانچ اسلحے کی فراہمی اور لاجسٹک مدد دینے والوں کی شناخت کے لیے ملزمان سے تفتیش کر رہی ہے۔

نوٹ: ملزمان کے خلاف الزامات پولیس کے دعووں پر مبنی ہیں اور عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں۔

ذرائع: دی نیو انڈین ایکسپریس، دی ہندو، ٹیلی گراف انڈیا (24 اکتوبر 2026)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *