کوئٹہ: ماں کا پولیس افسر پر بیٹے کے قتل کا الزام
کوئٹہ میں ایک ماں نے پولیس افسر اور اس کے دو ساتھیوں پر اپنے بیٹے اور اس کے دوست کے قتل کا الزام لگاتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ سریاب کی رہائشی بی بی شرافت نے جمعے کے روز کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران یہ الزامات سامنے رکھے، جن کی تاحال عدالت میں تصدیق یا فیصلہ نہیں ہوا۔
ماں نے کیا الزام لگایا؟
ڈان کی رپورٹ کے مطابق، بی بی شرافت نے الزام لگایا کہ نیو سریاب پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او اور اس کے دو ساتھیوں نے 25 ستمبر کو ان کے بیٹے نور اللہ اور اس کے دوستوں پر فائرنگ کی، جب وہ بولان میں پکنک سے واپس آ رہے تھے۔ ان کے بقول، فائرنگ میں نور اللہ، جو گیراج میں کام کرتا تھا، اور اس کا دوست شفیع محمد جاں بحق ہو گئے، جبکہ تیسرا ساتھی زاہر احمد زخمی ہوا۔
بی بی شرافت نے مزید الزام لگایا کہ واقعے کے بعد پولیس نے حقائق چھپانے کے لیے ایک جھوٹا مقدمہ درج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرانے کے لیے متعلقہ تھانے میں متعدد درخواستیں دیں، لیکن ان کے بقول اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ واضح رہے کہ یہ تمام باتیں مدعیہ کے الزامات ہیں، اور ان کی آزادانہ عدالتی تصدیق ابھی باقی ہے۔
انصاف کا مطالبہ
پریس کانفرنس میں بی بی شرافت نے کہا کہ اگر انہیں انصاف نہ ملا تو وہ پریس کلب کے سامنے احتجاجاً خود کو آگ لگا لیں گی، اور اس کے نتائج کے ذمہ دار متعلقہ حکام ہوں گے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، وزیر داخلہ ضیاء اللہ لانگو اور انسپکٹر جنرل پولیس محمد طاہر سے براہ راست اپیل کی کہ وہ مداخلت کریں اور ملزمان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرائیں۔
یہ اپیل اس لیے بھی اہم ہے کہ متاثرہ خاندان کا دعویٰ ہے کہ مقامی سطح پر ان کی شکایات پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، اس لیے وہ صوبے کی اعلیٰ قیادت سے رجوع کر رہے ہیں۔
پولیس کا موقف اور قانونی صورتحال
اب تک سامنے آنے والی رپورٹوں میں پولیس کا تفصیلی موقف شامل نہیں ہے، اور نہ ہی یہ واضح ہے کہ واقعے کی کوئی سرکاری انکوائری کس مرحلے میں ہے۔ جب تک پولیس یا کسی عدالتی فورم کی جانب سے باقاعدہ بیان یا فیصلہ سامنے نہیں آتا، یہ معاملہ الزامات کی سطح پر ہی رہے گا۔
قانونی ماہرین کے مطابق، ایسے معاملات میں شفاف انکوائری ہی واحد راستہ ہے جس سے یہ طے ہو سکتا ہے کہ فائرنگ کے واقعے کے اصل حقائق کیا تھے، اور کیا اس میں کسی افسر یا اہلکار کا کردار تھا یا نہیں۔ متاثرہ خاندان کی جانب سے مقدمے کے اندراج کا مطالبہ اسی انکوائری کے عمل کا پہلا قدم ہے۔
بلوچستان میں پولیس احتساب کا سوال
یہ واقعہ بلوچستان میں پولیس کے احتساب اور اختیارات کے استعمال کے بارے میں پرانے سوالات کو پھر سے سامنے لے آیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ جب کسی واقعے میں خود پولیس اہلکاروں پر الزام ہو تو متاثرہ خاندانوں کے لیے انصاف تک رسائی مزید مشکل ہو جاتی ہے، اس لیے آزاد اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں۔
دوسری جانب، پولیس حکام عام طور پر اس موقف پر زور دیتے ہیں کہ ہر واقعے کی تحقیقات قانون کے مطابق کی جاتی ہیں اور کسی بھی اہلکار کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جاتا۔ اس کیس میں اصل صورتحال تب ہی واضح ہوگی جب حکام کی جانب سے باضابطہ ردعمل یا انکوائری رپورٹ سامنے آئے گی۔
آگے کیا ہوگا؟
اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ، وزیر داخلہ یا آئی جی بلوچستان کی جانب سے اس اپیل پر کیا ردعمل آتا ہے، اور کیا ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے یا واقعے کی آزاد انکوائری کا کوئی حکم جاری ہوتا ہے۔ متاثرہ خاندان کی پریس کانفرنس کے بعد یہ معاملہ عوامی توجہ میں آ گیا ہے، اور آئندہ دنوں میں حکام کے ردعمل پر سب کی نظر رہے گی۔
مزید پڑھیں: گوادر میں دہشتگرد حملہ ناکام — 3 ہلاک، 7 گھیر لیے اور اوتھل بس حادثہ: 12 جاں بحق، 22 زخمی
ذرائع: ڈان، 24 اکتوبر 2026؛ اے این آئی/لیٹسٹلی، 24 اکتوبر 2026۔ الزامات مدعیہ کے بیان پر مبنی ہیں، عدالتی فیصلہ باقی ہے۔