سندھ ہائیکورٹ: ہزاروں منشیات کیسز 5 خصوصی عدالتوں کو
سندھ ہائیکورٹ نے کراچی میں زیر التوا ہزاروں منشیات کیسز شہر کی پانچ نئی خصوصی عدالتوں کو منتقل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ حکم ہفتے کے روز سامنے آیا اور اس کا مقصد منشیات سے متعلق مقدمات کی سماعت کو ایک مربوط اور خصوصی نظام کے تحت لانا ہے۔
ہائیکورٹ نے کیا حکم دیا؟
ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، سندھ ہائیکورٹ کی ممبر انسپکشن ٹیم ٹو کے محمد جہانگیر خان نے چیف جسٹس کی ہدایات پر ایک مراسلہ جاری کیا، جس میں کراچی کے پانچوں اضلاع — جنوبی، مشرقی، مغربی، وسطی اور ملیر — کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں زیر التوا منشیات کیسز متعلقہ خصوصی عدالتوں کو منتقل کریں۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ کیسز علاقائی دائرہ اختیار کے مطابق سی این ایس کورٹس ون، ٹو، فور، فائیو اور سکس، کراچی کو بھیجے جائیں۔ ڈسٹرکٹ ججوں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حکم پر عملدرآمد یقینی بنائیں اور اپنی رپورٹ ممبر انسپکشن ٹیم کو جمع کرائیں، تاکہ منتقلی کے عمل کی نگرانی ہو سکے۔
نئے کیسز بھی انہی عدالتوں میں
اس انتظام کے تحت صرف پرانے زیر التوا کیسز ہی نہیں، بلکہ نئے درج ہونے والے کیسز کی ریمانڈ کارروائی بھی انہی خصوصی عدالتوں کے سامنے ہوگی۔ اسی طرح زیر التوا اور نئے دونوں طرح کے کیسز میں عبوری اور حتمی چالان بھی انہی عدالتوں میں جمع کرائے جائیں گے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ منشیات سے متعلق مقدمات کی ابتدائی کارروائی سے لے کر چالان اور سماعت تک کا پورا عمل اب ایک ہی خصوصی نظام کے تحت چلے گا، جس سے کیسز کی پیروی اور نگرانی میں یکسانیت آنے کی توقع ہے۔
قانون میں تبدیلی کا پس منظر
یہ پیشرفت صوبائی منشیات قانون میں تبدیلی کے بعد سامنے آئی ہے۔ 15 اکتوبر 2024 کو کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹنسز ایکٹ 1997 منسوخ کر کے اس کی جگہ سندھ کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹنسز ایکٹ 2024 نافذ کیا گیا تھا۔ نئے قانون کے تحت درج ہونے والے تمام کیسز اب نئی خصوصی عدالتوں کو منتقل کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، منتقل کیے جانے والے کیسز میں مبینہ طور پر “کوکین کوئین” کے نام سے مشہور ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف درج چار کیسز بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ یہ الزامات ہیں اور ان کیسز کا فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔
یہ فیصلہ کیوں اہم ہے؟
کراچی میں منشیات کیسز کی بڑی تعداد برسوں سے مختلف عدالتوں میں زیر التوا ہے، جس سے سماعت میں تاخیر اور کیسز کی پیروی میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ خصوصی عدالتوں کا قیام اس لیے کیا گیا ہے کہ منشیات سے متعلق مقدمات کی سماعت تیز اور منظم انداز میں ہو سکے۔
ماہرین کے مطابق، جب ایک ہی نوعیت کے کیسز مخصوص عدالتوں میں یکجا ہو جاتے ہیں تو نہ صرف سماعت کا عمل تیز ہوتا ہے بلکہ پولیس، استغاثہ اور عدالت کے درمیان ہم آہنگی بھی بہتر ہوتی ہے۔ تاہم اس کا اصل فائدہ اسی صورت میں سامنے آئے گا جب منتقلی مکمل ہو اور نئی عدالتیں باقاعدگی سے سماعت کریں۔
آگے کیا ہوگا؟
اب ڈسٹرکٹ ججوں کی جانب سے عملدرآمد رپورٹس آنے کے بعد یہ واضح ہوگا کہ کتنے کیسز منتقل ہوئے اور خصوصی عدالتوں میں سماعت کا شیڈول کیا طے پایا ہے۔ ہائیکورٹ کی نگرانی میں یہ عمل جاری رہے گا، اور آئندہ سماعتوں میں اس نئے نظام کے اثرات دیکھے جا سکیں گے۔
مزید پڑھیں: سندھ کے تین انسداد دہشت گردی عدالتوں کے جج بحال اور لاہور ہائیکورٹ: ڈی پی او بھکر کے وارنٹ گرفتاری جاری
ذرائع: ایکسپریس ٹریبیون، 24 اکتوبر 2026۔