فرانس مظاہرے: 4 لاکھ سے زیادہ افراد، 1000 گرفتار

0

فرانس میں ہفتے 24 اکتوبر 2026 کو مہنگائی اور اسکول فنڈنگ کے خلاف ملک گیر مظاہروں میں وزارت داخلہ کے مطابق 4 لاکھ 10 ہزار افراد نے شرکت کی، جن میں پیرس میں ایک لاکھ 10 ہزار مظاہرین شامل تھے۔ وزیر داخلہ لاراں نونیز کے مطابق پولیس نے ملک بھر میں تقریباً 1000 افراد کو گرفتار کیا، جبکہ پیرس میں مظاہرے کے اختتام پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا گیا۔

پیرس میں کیا ہوا؟

پیرس کا مارچ پرامن انداز میں شروع ہوا، لیکن اختتام کے قریب پورٹ ڈی وینسین کے مقام پر کچھ مظاہرین کی جانب سے اشیاء پھینکے جانے کے بعد پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے اور واٹر کینن سے مظاہرین کو منتشر کیا۔ حکام نے دارالحکومت کا مارچ شہر کے جنوب مشرقی کنارے تک محدود کر رکھا تھا تاکہ مظاہرین وسطی علاقوں تک نہ پہنچ سکیں، جہاں گزشتہ ہفتے کے آخر میں دکانیں لوٹی گئی تھیں۔ ٹریڈ یونینوں کی قیادت میں جلوس پورٹ ڈی اٹلی سے روانہ ہوا۔
پیرس کے پراسیکیوٹر کے دفتر کے مطابق دارالحکومت میں مظاہرے کے سلسلے میں 64 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں 40 کو پولیس حراست میں رکھا گیا اور 6 نابالغ بھی شامل تھے۔ زیادہ تر گرفتاریاں مشتبہ ہتھیاروں کے جرائم یا تشدد اور املاک کو نقصان پہنچانے کی تیاری میں گروہ میں شرکت کے الزام میں ہوئیں۔ ملک بھر کی تقریباً 1000 گرفتاریوں کا اعداد وزیر داخلہ نے ہفتے کی رات صحافیوں کو بتایا، اور انہوں نے کہا کہ قانونی کارروائی آگے بڑھنے کے ساتھ یہ تعداد بڑھ سکتی ہے۔

دوسرے شہروں میں جھڑپیں اور زخمی

پیرس کے علاوہ لیون، کلرمون فیراں، اسٹراسبرگ، مارسیلز، بورڈو، للی، ٹولوز، مونٹپیلیئر اور نانٹس سمیت کئی شہروں میں بھی پولیس نے آنسو گیس استعمال کی، جبکہ نیس اور نانٹس میں واٹر کینن چلائی گئی۔ وزیر داخلہ کے مطابق دو افراد شدید زخمی ہوئے — ایک ٹولوز میں، جن کی انگلیاں مبینہ طور پر پھٹ گئیں، اور دوسرا کلرمون فیراں میں۔ ان کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
حکومت نے ملک بھر میں 70 ہزار تک پولیس اہلکار تعینات کیے تھے، جن کی مدد کے لیے ہیلی کاپٹر، بکتر بند گاڑیاں اور واٹر کینن بھی موجود تھیں۔ مظاہروں سے پہلے پولیس نے سینکڑوں افراد کی تلاشی لی اور دھاتی گیندیں، آتش بازی کا سامان، غلیلیں، ایک کتانہ تلوار اور ایئر سافٹ گنوں سمیت مبینہ ہتھیار ضبط کیے۔ لوور، پیرس اوپیرا ہاؤس اور دیگر عجائب گھر اور ثقافتی مقامات دن بھر بند رہے، اور بہت سی دکانیں لکڑی کے تختوں سے ڈھکی رہیں۔

تعداد پر اختلاف اور سیاسی پس منظر

شرکت کی تعداد پر حکام اور منتظمین کے اعداد میں بڑا فرق رہا: وزارت داخلہ نے 4 لاکھ 10 ہزار کا اعداد دیا، جبکہ یونینوں اور طلبہ تنظیموں نے 8 لاکھ شرکاء کا دعویٰ کیا۔ پیرس میں بھی یونینوں نے 2 لاکھ 50 ہزار کا دعویٰ کیا، جبکہ پولیس کا تخمینہ ایک لاکھ 10 ہزار تھا۔
وزیر داخلہ نے تشدد کا الزام انتہائی بائیں بازو کے انتہا پسند گروہوں پر لگایا اور کہا کہ انہوں نے انتہائی بلند سطح کا تشدد کیا، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ دوپہر کے وقت ملک گیر مارچ مجموعی طور پر اچھی طرح گزرے۔ یہ مظاہرے صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت کے لیے ایک نیا امتحان ہیں، جن کی صدارت کے آخری مہینے چل رہے ہیں اور مئی میں ان کے جانشین کا انتخاب ہوگا۔ گزشتہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے تشدد میں 3 ہزار دکانیں لوٹی گئی تھیں، 997 پولیس اہلکار زخمی اور 2 ہزار 700 افراد گرفتار ہوئے تھے، جبکہ 217 افراد کو جیل بھیجا گیا تھا۔
اس سے قبل فرانس میں 24 اکتوبر کے مظاہروں کی تیاریوں پر https://niazitvnews.com/?p=1615 میں تفصیل دی گئی تھی، جبکہ پیرس کے نواحی علاقے ٹریپس میں فائرنگ کے واقعے پر https://niazitvnews.com/?p=1664 میں رپورٹ موجود ہے۔
ماخذ: ایسوسی ایٹڈ پریس، ٹائمز آف اسرائیل، فاکس نیوز، دی ٹائمز، 24 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *