ٹرمپ کی ایران کو دھمکی: اتوار کو حملہ یا معاہدہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ امریکا ایران پر اتوار، 25 اکتوبر کو نیا فوجی حملہ کر سکتا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ تہران کے ساتھ ایک بڑا معاہدہ بھی ممکن ہے۔ فلوریڈا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا کو “کام مکمل کرنا پڑے گا”۔
ٹرمپ نے کیا کہا؟
ٹرمپ نے 24 اکتوبر کو فلوریڈا میں وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالنے کے بعد صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا کہ واشنگٹن ایران پر نئے حملے پر غور کر رہا ہے اور یہ حملہ “شاید کل” ہو سکتا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے فیصلہ کر لیا ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ یہ بتانے والے نہیں کہ حملہ ہوگا یا نہیں۔
امریکی صدر نے اس سے ایک روز قبل بھی اسی طرح کی دھمکی دی تھی اور ممکنہ کارروائی کو “ایک اور چھوٹا ایپک فیوری” قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ تہران کسی معاہدے پر راضی ہوگا، لیکن معاہدے کا امکان اب بھی موجود ہے۔ یہ کشیدگی فروری 2026 میں شروع ہونے والی امریکا-اسرائیل جنگ کے بعد سے جاری ہے، جس کے بعد سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔
ایران کا جواب اور پزشکیان کا الزام
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا پر عبوری معاہدے کی بات چیت ناکام بنانے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے امریکیوں کو “بزدل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے “سب کچھ خراب کر دیا”، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تہران کو معاہدے تک پہنچنے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔
دوسری جانب ایران نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ اس نے امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے بدلے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش کی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایسی کوئی نئی پیشکش پاکستانی ثالثوں کو نہیں بھیجی گئی اور نہ ہی امریکا کو کوئی پیشکش کی گئی ہے۔
حوثی حملے اور سعودی عرب کی صورتحال
اسی دوران یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ سعودی سول ڈیفنس کے مطابق روکے گئے میزائلوں کے ٹکڑے مکہ، جدہ، طائف اور ربیغ میں گرے ہیں۔ سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا ہے کہ اس نے طائف اور ینبو کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائل روکے ہیں جبکہ ریاض کی طرف بھی ایک میزائل روکا گیا۔
حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب میں سات مقامات کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ یمن کی حکومت نے کہا ہے کہ حوثیوں نے جنوبی بندرگاہی شہر عدن پر حملہ کیا، جہاں النصر کیمپ اور بحری فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔ یمنی حکومت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں حوثی اہداف کے خلاف 700 سے زائد کارروائیاں کی گئیں جن میں 300 سے زائد جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
اوباما کی تنقید اور خطے پر اثرات
سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ٹرمپ کے جنگ سے نمٹنے کے انداز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنگ غیر ضروری تھی اور اس نے ایران کو اسٹریٹجک طور پر مضبوط پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے جبکہ امریکی جانی نقصان ہوا اور معاشی دباؤ بڑھا ہے۔
ادھر خلیج تعاون کونسل کے سربراہ نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کی ہے اور انہیں “گھناؤنا” قرار دیا ہے۔ امریکی سفارت خانے نے ریاض میں لیول 3 کا سفری انتباہ بھی جاری کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھی تو تیل کی قیمتوں اور عالمی تجارت پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس کا اثر پاکستان سمیت خطے کے ممالک پر بھی پڑے گا۔
مزید پڑھیں: ایران کی امریکا کو وارننگ: ‘قیامت خیز جنگ’ ہوگی (https://niazitvnews.com/?p=1823) اور آبنائے ہرمز: ایران نے امریکا کو پیشکش کی تردید کر دی (https://niazitvnews.com/?p=1812)
ماخذ: ای ٹی ناؤ، الجزیرہ، انڈین ایکسپریس — 25 اکتوبر 2026