مجبور ریمکس: پاکستانی گانے کو عالمی ڈی جے کا نیا روپ

0

پاکستانی ہٹ گانا مجبور اب ایک نئے عالمی روپ میں سامنے آ رہا ہے۔ بیلجیئم کے مشہور ڈی جے اور پروڈیوسر لاسٹ فریکوئنسیز نے شہریار ریحان اور زوہا وسیم کے اس گانے کا آفیشل ریمکس تیار کیا ہے جس نے پاکستانی موسیقی کو ایک بار پھر دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ یہ ریمکس اصل گانے کی جذباتی پہچان کو برقرار رکھتے ہوئے اسے ڈانس فلور کے انداز میں پیش کرتا ہے۔

مجبور کیسے عالمی ہٹ بنا

مجبور اصل میں 2025 میں ریلیز ہوا تھا اور اس نے ریلیز کے بعد تیزی سے دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کی۔ دی نیشن کی رپورٹ کے مطابق اس گانے نے اب تک 250 ملین سے زیادہ عالمی اسٹریمز حاصل کیے ہیں اور یہ اسپاٹیفائی، یوٹیوب اور ایپل میوزک پر ٹاپ تھری میں جگہ بنا چکا ہے۔ یہ گانا عالمی ٹاپ 100 میں بھی شامل ہوا اور یوٹیوب کی ٹاپ میوزک ویڈیوز میں جگہ بنائی جبکہ اسپاٹیفائی کے گلوبل وائرل ٹاپ 50 میں بھی اس کا نام آیا۔

پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارت، بنگلہ دیش اور متحدہ عرب امارات میں بھی اس گانے نے بڑی تعداد میں سامعین حاصل کیے۔ یوں یہ گانا سرحدوں سے آگے نکل کر ایک مشترکہ سننے والوں کی پسند بن گیا جس نے پاکستانی موسیقی کی عالمی رسائی کو نئی مثال دی۔

ریمکس کیسے بنا

اس تعاون کی شروعات اس وقت ہوئی جب لاسٹ فریکوئنسیز نے اپنے لائیو شوز کے دوران مجبور کی اپنی نئی تشریح بجانا شروع کی اور پھر اس لمحے کو انسٹاگرام پر بھی شیئر کیا۔ سامعین کی دلچسپی کے بعد اب یہ آفیشل ریمکس جاری کیا گیا ہے جس میں ان کا اپنا الیکٹرانک انداز اصل گانے کی دھنوں کے ساتھ مل گیا ہے۔

شہریار ریحان نے کہا کہ گانے کا سفر سرحدوں سے آگے بڑھنا ان کے لیے خاص طور پر خوش کن رہا ہے اور ریمکس نے اصل گانے کے جذبات کو برقرار رکھتے ہوئے اسے ایک تازہ موسیقی کا زاویہ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجبور کو دنیا بھر میں نئے سامعین تک پہنچتے دیکھنا بہت حوصلہ افزا ہے۔

لاسٹ فریکوئنسیز کون ہیں

لاسٹ فریکوئنسیز کا اصل نام فیلکس ڈی لیٹ ہے۔ وہ اپنے گانے آر یو ود می سے دنیا بھر میں مشہور ہوئے جو 18 ممالک میں چارٹس پر پہلے نمبر پر رہا اور انہیں برطانیہ میں نمبر ون حاصل کرنے والا پہلا بیلجیئم فنکار بنا دیا۔ اسپاٹیفائی پر ان کے ماہانہ سامعین کی تعداد عروج پر 36 ملین تک پہنچی جبکہ اس وقت یہ تعداد 21.2 ملین بتائی گئی ہے۔

گراف میوزک کے پروڈیوسر، چیف آپریٹنگ آفیسر اور شریک بانی زلفی نے کہا کہ موسیقی کہانیوں کو غیر متوقع جگہوں تک لے جانے کی طاقت رکھتی ہے۔ انہوں نے بھارت میں لاسٹ فریکوئنسیز کے مجبور پیش کرنے کے لمحے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستانی موسیقی کی عالمی سامعین تک رسائی کے نئے مواقع کھلے ہیں۔

ریمکس کی ٹیم

آفیشل ریمکس میں شہریار ریحان، زوہا وسیم اور لاسٹ فریکوئنسیز شامل ہیں اور ریمکس کی پروڈکشن بھی لاسٹ فریکوئنسیز نے ہی کی ہے۔ ریمکس کی مکسنگ اور ماسٹرنگ اینڈریس الگابا نے کی ہے جبکہ اصل گانا شہریار ریحان نے لکھا اور کمپوز کیا تھا۔ اصل ٹریک کی پروڈکشن کبیر خان نے کی تھی، گٹار شیری خٹک نے بجائے تھے اور مکسنگ و ماسٹرنگ جولی سونک نے کی تھی۔

مجبور میں شہریار ریحان کی براہ راست جذباتی شاعری اور زوہا وسیم کی غزل سے جڑی گائیکی کا امتزاج ہے جس نے اسے ایک جدید پاکستانی پاپ ٹریک بنایا۔ اب لاسٹ فریکوئنسیز کے ریمکس کے بعد یہ گانا ڈانس فلور اور عالمی پلے لسٹس میں ایک نئی زندگی پا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: رابعہ کلثوم کا بالی ووڈ پر طنز

مزید پڑھیں: شوبز کی تازہ خبریں

ماخذ: دی نیشن، 26 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *