پنجاب: غیر مجاز پولیس اسکارٹ فوری واپس لینے کا حکم

0

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں غیر مجاز پولیس اسکارٹ فوری طور پر واپس لینے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ ہدایت 22 اکتوبر کو وزیر اعلیٰ آفس کی جانب سے جاری ہدایاتہدایاتکی گئی ترجیحی ہدایات میں دی گئی، جس کی خبر روزنامہ دی نیشن نے 26 اکتوبر کو شائع کی ہے۔ حکم کہدایاتے مطابق بغیر مجاز منظوری کے کسی بھی شخص کو مستقل پولیس اسکارٹ فراہم نہیں کیا جائے گا۔

کس کس کو اسکارٹ نہیں ملے گا؟

ہدایات کے مطابق کوئی پولیس اسکارٹ مستقل بنیادوں پر صوبائی کابینہ کے کسی رکن، وزیر اعلیٰ کے مشیر یا معاون خصوصی، پارلیمانی سیکرٹری، قائمہ کمیٹی کے چیئرپرسن، رکن صوبائی اسمبلی، سرکاری افسر یا کسی نجی فرد کو مجاز منظوری کے بغیر فراہم نہیں کیا جائے گا۔ یہ پابندی سیاسی عہدے داروں اور نجی افراد سب پر یکساں لاگو ہوگی۔

وزیر اعلیٰ نے سرکاری گاڑیوں پر فلیگ اسٹاف اور سرکاری جھنڈوں کے استعمال پر بھی پابندی لگا دی ہے۔ صرف وہ افراد سرکاری جھنڈا لگا سکیں گے جو قانوناً اس کے حقدار ہوں گے۔

آئی جی پنجاب کو کیا ہدایت دی گئی؟

وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری ساجد ظفر ڈل کی جانب سے جاری ہدایات میں صوبائی پولیس افسر اور انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی) پنجاب کو فوری عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ آئی جی پنجاب کو حکم دیا گیا ہے کہ بغیر مجاز منظوری کے تعینات تمام پولیس اسکارٹ واپس لیے جائیں یا ختم کیے جائیں۔

ہدایات کی نقول چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری، وزیر اعلیٰ آفس میں ایڈیشنل سیکرٹری (لا اینڈ آرڈر) اور وزیر اعلیٰ کے پرنسپل اسٹاف افسر کو بھی ارسال کی گئی ہیں تاکہ کارروائی اور فالو اپ یقینی بنایا جا سکے۔

یہ حکم کیوں دیا گیا؟

یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب پولیس اہلکاروں کو سیکیورٹی اور پروٹوکول ڈیوٹیوں کے لیے غلط استعمال کرنے کی شکایات موصول ہو رہی تھیں۔ خدشہ یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ بغیر استحقاق کے افراد کے لیے پولیس نفری تعینات کرنے سے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے وسائل اپنے بنیادی کام — امن و امان برقرار رکھنے اور شہریوں کی حفاظت — سے ہٹ کر استعمال ہو رہے ہیں۔

نئی ہدایت کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ پولیس اسکارٹ صرف مجاز سیکیورٹی ضروریات کے مطابق فراہم کیے جائیں۔ وزیر اعلیٰ آفس نے آئی جی پنجاب سے حکم پر سختی اور فوری عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔

اس سے پہلے کیا ہوا؟

یہ حکم وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے انتظامی نظم و ضبط سے متعلق حالیہ اقدامات کی کڑی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ اسی روز ایک اور فیصلے میں جھنگ کے ڈپٹی کمشنر کو جیپ ریلی میں پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کی گاڑی کے استعمال پر عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ دونوں فیصلے سرکاری وسائل کے غلط استعمال کے خلاف سخت مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ پنجاب پولیس کتنی جلد غیر مجاز اسکارٹ واپس لیتی ہے اور آیا اس حکم کے بعد پروٹوکول کلچر میں واقعی کمی آتی ہے یا نہیں۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں جرائم 63 فیصد کم، سی سی ڈی کا دعویٰ اور مری میں وین کھائی میں گر گئی، 7 افراد جاں بحق۔

ماخذ: روزنامہ دی نیشن — 26 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *