شرح سود 12 فیصد: اسٹیٹ بینک نے 50 بیسز پوائنٹس اضافہ کر دیا
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس (0.50 فیصد) کا اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد پالیسی ریٹ 11.50 فیصد سے بڑھ کر 12 فیصد ہو گیا ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کا یہ فیصلہ پیر 26 اکتوبر کو کراچی میں گورنر جمیل احمد کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا، اور اس کا اعلان گورنر نے پریس کانفرنس میں کیا۔ یہ اپریل 2026 کے بعد شرح سود میں پہلی تبدیلی ہے، جب بینک نے 100 بیسز پوائنٹس کا اضافہ کر کے ریٹ 11.50 فیصد کیا تھا۔
فیصلہ کیوں کیا گیا؟
اسٹیٹ بینک کے مطابق فیصلے کی بنیادی وجہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ گورنر جمیل احمد نے بتایا کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے، جس سے پاکستان کے بیرونی کھاتوں اور مہنگائی پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ آج نیوز کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی کے 10 ارکان میں سے 9 نے شرح سود میں اضافے کی حمایت کی۔
مہنگائی کے اعداد بھی فیصلے کی حمایت کرتے ہیں۔ جولائی میں 9.2 فیصد سے بڑھ کر اگست میں مہنگائی 11.1 فیصد تک پہنچ گئی تھی، جب کہ ستمبر میں یہ 10.26 فیصد رہی — پھر بھی اسٹیٹ بینک کے 5 سے 7 فیصد کے درمیانی مدتی ہدف سے کافی اوپر ہے۔ بنیادی (کور) مہنگائی اگست میں 8.7 فیصد تھی۔ ماہرین کے مطابق مہنگائی کی توقعات میں اضافہ اس خدشے کو بڑھا رہا تھا کہ قیمتوں کا دباؤ اجرتوں اور قیمتوں کے تعین کے ذریعے مستقل ہو سکتا ہے۔
مارکیٹ کی توقع پوری ہوئی
یہ فیصلہ مارکیٹ کی اکثریتی توقع کے عین مطابق ہے۔ آج صبح کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سروے میں شامل 61 فیصد ماہرین شرح سود میں اضافے کی توقع کر رہے تھے، جن میں 54 فیصد نے 50 بیسز پوائنٹس اضافے کی پیش گوئی کی تھی، جب کہ 39 فیصد کا خیال تھا کہ ریٹ برقرار رہے گا۔ اس فیصلے سے قبل پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی محتاط رویہ دیکھا گیا تھا، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً فلیٹ بند ہوا تھا، جس کی تفصیل یہاں پڑھی جا سکتی ہے: https://niazitvnews.com/?p=2046 اور آج صبح فیصلے سے پہلے کی توقعات کی خبر یہاں موجود ہے: https://niazitvnews.com/?p=2021
عام آدمی اور کاروبار پر کیا اثر پڑے گا؟
شرح سود میں اضافے کا مطلب ہے کہ بینکوں سے قرض لینا مہنگا ہو جائے گا۔ کاروباری قرضوں، گاڑیوں اور گھروں کی فنانسنگ اور کریڈٹ کارڈز پر سود کی لاگت بڑھ سکتی ہے، جس سے سرمایہ کاری اور خرچ میں کمی آ سکتی ہے۔ دوسری طرف بچت کرنے والوں کو بینک ڈپازٹس پر قدرے بہتر منافع ملنے کا امکان ہے۔ اسٹیٹ بینک کا موقف ہے کہ سخت مانیٹری پالیسی مہنگائی کو قابو میں رکھنے اور مہنگائی کی توقعات کو مستحکم کرنے کے لیے ضروری ہے۔
طویل تناظر میں یہ اضافہ ایک بڑے چکر کا حصہ ہے: اسٹیٹ بینک نے جون 2023 میں 22 فیصد کی ریکارڈ سطح سے 2024 کے وسط سے اب تک مجموعی طور پر 1,050 بیسز پوائنٹس کی کمی کی تھی، پھر اپریل 2026 میں پہلی بار اضافہ کیا۔ نکٹا کے مطابق 12 فیصد کی نئی سطح جنوری 2025 کے بعد بلند ترین ہے۔ اسٹیٹ بینک نے گزشتہ اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے لیے معاشی نمو 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان رہنے کی پیش گوئی کی تھی۔
آگے کیا دیکھنا ہے؟
اب نظریں اس بات پر ہوں گی کہ مہنگائی آئندہ مہینوں میں کس سمت جاتی ہے اور کیا عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی آتی ہے۔ اسٹیٹ بینک نے پہلے کہا تھا کہ مہنگائی جون 2027 تک ہدف کی بالائی حد کی طرف بتدریج کم ہو سکتی ہے، لیکن غیر مستحکم اجناس کی قیمتیں، توانائی کے نرخوں میں ایڈجسٹمنٹ اور سپلائی میں خلل اس منظرنامے کے لیے خطرہ ہیں۔ اگر مہنگائی قابو میں آتی ہے تو آئندہ اجلاسوں میں شرح سود میں نرمی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے، ورنہ سخت پالیسی برقرار رہ سکتی ہے۔
ذرائع: ڈان (26 اکتوبر 2026، 15:55 پی کے ٹی)، آج نیوز (26 اکتوبر 2026، 16:10 پی کے ٹی)، ایکسپریس ٹریبیون، ایم ایم نیوز، نکٹا۔