ایران پر امریکی حملہ: 96 گھنٹے میں بڑی کارروائی تیار
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دو امریکی حکام کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حکم ملنے کے 96 گھنٹے کے اندر ایران کے خلاف نئی، ممکنہ طور پر بڑی فوجی کارروائی شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق خطے میں اس وقت اتنی فوج موجود ہے کہ مجوزہ حملے کیے جا سکیں، اور نئی کارروائی کا دائرہ ماضی کی محدود کارروائیوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
سی این این کی رپورٹ میں کیا کہا گیا
سی این این کی 26 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق دو امریکی حکام نے بتایا کہ امریکی افواج ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیاں “حکم ملنے کے 96 گھنٹے کے اندر” شروع کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خطے میں اس مقصد کے لیے کافی فوجی طاقت پہلے سے موجود ہے۔ ایک اہلکار نے سی این این سے گفتگو میں اس ممکنہ کارروائی کو “بڑی کوشش” قرار دیا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ موجودہ اور سابق امریکی حکام کی ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ اب سوال یہ نہیں کہ ٹرمپ حملے کا حکم دیں گے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کب دیں گے۔ بعض حکام کے مطابق حکم سال کے آخر سے پہلے کسی بھی وقت آ سکتا ہے، تاہم زیادہ امکان یہ ہے کہ یہ امریکا کے وسط مدتی انتخابات کے بعد آئے گا، جو اگلے ماہ ہونے والے ہیں۔
“بڑی کوشش” کا مطلب کیا ہے
سی این این کے ذرائع کے مطابق نئی کارروائی کا دائرہ محض “گھاس کاٹنے” جیسی محدود کارروائیوں تک محدود نہیں رہے گا۔ اس سے مراد وہ حملے ہیں جن میں ایرانی ریڈار، میزائل لانچرز اور دیگر ایسے فوجی اثاثوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جنہیں جلد دوبارہ تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے اس سال کے شروع میں مکمل جنگی کارروائیاں روک دی تھیں، جس کے بعد سے اس نوعیت کی محدود کارروائیاں جاری رہی ہیں۔ نئی منصوبہ بندی کے مطابق ممکنہ حملے اس سے کہیں زیادہ وسیع ہوں گے۔
ٹرمپ کا تازہ موقف
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے اتوار کو ایران پر فوری حملے کا امکان مسترد کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ یا تو ایران کے ساتھ سفارتی معاہدہ ہوگا یا پھر امریکا “ان کا کام تمام کر دے گا”۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے آبنائے ہرمز پر بحری برتری حاصل کر لی ہے اور اس راستے سے تجارتی سرگرمیاں جنگ سے پہلے کی سطح سے بھی زیادہ ہو گئی ہیں۔ اس سے قبل ٹرمپ: آج ایران پر حملہ نہیں ہوگا، قطر ثالثی جاری کی خبر میں ان کے اسی موقف کی تفصیل دی گئی تھی۔
پس منظر: جنگ بندی کے باوجود کشیدگی
امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ فروری کے آخر میں شروع ہوئی تھی، جس کے بعد جنگ بندی ہوئی اور حتمی امن معاہدے کے لیے ایک یادداشت پر بھی اتفاق ہوا۔ اس کے باوجود کشیدگی کم نہیں ہوئی۔ تہران کا کہنا ہے کہ جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کے انتظام میں تبدیلی آئے گی، جبکہ یمن کے حوثیوں نے ریاض اور سعودی تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اسی پس منظر میں مکہ معاہدے کے رکن ممالک سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے حکام نے آج تہران مذاکرات بھی کیے ہیں۔
خطے پر اثرات
اگر امریکا نے ایران پر نئی بڑی کارروائی کی تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی تیل کی ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے، اور اس میں کسی بھی رکاوٹ سے عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرش نے بھی پیر کو قاہرہ میں خبردار کیا تھا کہ کشیدگی میں اضافہ خطے کو قابو سے باہر کر سکتا ہے۔ پاکستان سمیت خلیجی ممالک اس صورتحال کو قریب سے دیکھ رہے ہیں، کیونکہ خطے میں کسی بھی نئی جنگ کے معاشی اور انسانی نتائج پورے خطے کو متاثر کریں گے۔
ذرائع: سی این این اور گلف نیوز کی 26 اکتوبر 2026 کی رپورٹوں کے مطابق۔