یوکرین پر روسی حملے: زاپوریژیا میں 6 زخمی

0

یوکرین کے جنوب مشرقی شہر زاپوریژیا پر رات گئے روسی حملے میں 4 افراد زخمی ہو گئے، جبکہ چرنیہیو خطے میں روسی حملوں میں مزید 2 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ حملے پیر 26 اکتوبر 2026 کی رات کیے گئے، جس سے مجموعی طور پر زخمیوں کی تعداد 6 ہو گئی ہے۔

کہاں کہاں حملے ہوئے

زاپوریژیا کے علاقائی گورنر میخائیلو سیمیکین نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ شہر پر رات گئے حملے میں 4 افراد زخمی ہوئے۔ یوکرین کی ایمرجنسی سروس نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ چرنیہیو خطے میں حملوں میں مزید 2 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے ٹیلی گرام پر دعویٰ کیا ہے کہ اس نے یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں ایک پاور اسٹیشن، خارکیف کے گردونواح میں ایک گودام اور خمیلنیتسکی خطے میں ایک اور پاور اسٹیشن کو نشانہ بنایا ہے۔ روسی وزارت کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس نے چورنومورسک میں بندرگاہی ڈھانچے اور اوڈیسا کی طرف جانے والے ایک کارگو جہاز کو نشانہ بنایا، جس کے بارے میں روس کا کہنا ہے کہ وہ فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔ یہ روسی دعوے ہیں جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

امریکا کا دباؤ اور زیلنسکی کا جواب

رائٹرز کے مطابق امریکا نے یوکرین پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ روس کی تیل ریفائنریوں پر حملے روک دے، کیونکہ واشنگٹن کا موقف ہے کہ ان حملوں سے توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، جو ایران کے خلاف جنگ اور اگلے ماہ ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے پیش نظر ٹرمپ انتظامیہ کے لیے حساس مسئلہ ہے۔
اتوار کو نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ کیف اسی صورت میں اپنی کارروائیاں روکے گا جب ماسکو توانائی کے ڈھانچے پر حملے بند کر دے۔ متبادل کے طور پر انہوں نے کہا کہ امریکا روس کے اوپر میزائل لانچ سائٹس کا پتہ لگانے کے لیے اسٹار شیلڈ سسٹم کے استعمال کی اجازت دے، یا یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل فراہم کرے۔

جنگ بندی کی کوششوں کے درمیان حملے

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی اور امن مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں۔ اس سے قبل اولیشکی جنگ بندی سے قبل روس کا یوکرین پر الزام کی خبر میں بتایا گیا تھا کہ روس نے جنگ بندی سے پہلے یوکرین پر توپ خانے اور ڈرون حملوں کا الزام لگایا تھا۔ اس سے پہلے کیف پر روسی ڈرون حملے کی خبر میں بھی دارالحکومت پر حملوں کی تفصیل دی گئی تھی۔
توانائی کے ڈھانچے پر حملوں کا سلسلہ سردیوں کے آغاز سے پہلے یوکرین کے شہریوں کے لیے خاص طور پر تشویشناک ہے، کیونکہ بجلی اور حرارت کی فراہمی متاثر ہونے سے عام لوگوں کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر شہری اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا الزام لگاتے رہے ہیں، جبکہ عالمی برادری جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دے رہی ہے۔
ذرائع: رائٹرز اور دی ہندو کی 26 اکتوبر 2026 کی رپورٹوں کے مطابق۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *