گوٹیرش کا انتباہ: ایران پر حملہ تباہ کن ہوگا
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرش نے قاہرہ میں خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی روکنا ناگزیر ہو گیا ہے، کیونکہ ایران پر زبردست فوجی حملے اور خلیجی ممالک پر ایران کے جوابی حملے کا خطرہ ہر قیمت پر ٹالنا ہوگا۔ گوٹیرش نے یہ بات پیر 26 اکتوبر کو قاہرہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی، اس وقت جب سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے سینئر حکام ایران سے مذاکرات کے لیے تہران میں موجود تھے۔
قاہرہ میں گوٹیرش کا پیغام
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گوٹیرش نے کہا کہ ایران پر زبردست حملے اور خلیجی ممالک پر ایران کے زبردست حملے کے امتزاج کا خطرہ ہر قیمت پر ٹالنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشیدگی میں کسی بھی اضافے کو روکنا “ناگزیر” ہے۔ گوٹیرش ہفتے کو قاہرہ پہنچے تھے، جہاں انہوں نے عرب لیگ کے سربراہ نبیل فہمی سے بھی ملاقات کی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے، غزہ اور سوڈان کے انسانی بحرانوں اور سفارتی حل پر تبادلہ خیال کیا۔
گوٹیرش نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ وہ جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے، شہریوں کے تحفظ اور سفارت کاری و امن کی شرائط پیدا کرنے کا مطالبہ لے کر آئے ہیں۔ قاہرہ میں ان کی پریس کانفرنس ایسے وقت ہوئی جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور امریکی حملے کی خبروں نے خطے میں تشویش بڑھا دی ہے۔
تہران میں مکہ معاہدہ ممالک کی ملاقات
دوسری جانب سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان تہران پہنچے ہیں، جہاں وہ ایرانی حکام سے ملاقات کر رہے ہیں۔ سعودی وزارت خارجہ نے پیر کو جاری بیان میں کہا کہ مکہ معاہدہ برائے مشترکہ دفاع کے رکن ممالک کے نمائندوں پر مشتمل یہ دورہ مکالمے اور سفارتی حل کی حوصلہ افزائی کے لیے ہے۔ بیان کے مطابق یہ بات چیت قطر اور پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی بھی حمایت کرتی ہے۔
پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی پیر کو تہران کے سرکاری دورے پر پہنچے ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل تہران میں سرکاری دورے پر ہیں، تاہم دورے کے مقصد کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔ عاصم منیر اس سے قبل بھی پاکستان کے ثالثی کے کردار کے سلسلے میں ایران کے کئی دورے کر چکے ہیں۔
یہ ملاقاتیں اس سے قبل آج ہونے والی تہران مذاکرات کی تصدیق کے بعد سامنے آئی ہیں، جن میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے حکام کی ایرانی حکام سے ملاقات طے تھی۔ ان مذاکرات کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور وسیع تر جنگ کا خطرہ ٹالنا بتایا جا رہا ہے۔ اس سے متعلق ہماری پہلی خبر یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2030
مصر کی پارلیمنٹ کا سعودی دفاع کا فیصلہ
اسی دوران مصر کی پارلیمنٹ نے حوثی حملوں کے خلاف سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوجی مدد کی منظوری دے دی ہے۔ سرکاری اخبار الاہرام کے حوالے سے اے ایف پی نے خبر دی کہ ایوان نمائندگان نے صدر عبدالفتاح السیسی کو سعودی عرب کی حمایت کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔ مصر کی پارلیمنٹ کا یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب سعودی عرب کو یمن کے ایران نواز حوثیوں کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا ہے۔
مصر کا یہ قدم خطے میں سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا واضح اشارہ سمجھا جا رہا ہے، اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلیجی کشیدگی اب صرف سعودی عرب اور ایران تک محدود نہیں رہی بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔
ایران کا جوہری پروگرام پر موقف
دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران پیر کو مکہ معاہدہ ممالک کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں اپنے جوہری پروگرام پر بات نہیں کرے گا۔ عہدیدار کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے امریکا کو پہلے تہران کی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
رائٹرز کے مطابق ایران نے ستمبر کے وسط میں ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو اپنی تجویز پہنچائی تھی، جس میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم کرنا، ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی اور تمام علاقائی محاذوں پر دشمنی کا خاتمہ شامل ہے۔ ایران کا یہ موقف مذاکرات کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ امریکا جوہری پروگرام کو مذاکرات کا مرکزی نکتہ بنانا چاہتا ہے۔
پس منظر: کشیدگی کیوں بڑھی
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست جنگ چھڑ گئی اور سعودی عرب پر حوثی حملوں میں اضافہ ہوا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو ایران کو سخت الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا تھا کہ تہران کو یا تو معاہدہ کرنا ہوگا یا پھر مکمل فوجی تباہی کا سامنا کرنا ہوگا۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ امریکی افواج کو آبنائے ہرمز پر مکمل بحری برتری حاصل ہے۔
اس سے قبل سی این این کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکا اگلے 96 گھنٹوں میں ایران کے خلاف بڑی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے، جس کی تفصیل اس رپورٹ میں شائع ہوئی تھی: https://niazitvnews.com/?p=2063 ۔ تاہم اب تہران میں مذاکرات اور قاہرہ سے گوٹیرش کے انتباہ نے سفارتی حل کی امید بھی پیدا کر دی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ خطہ جنگ کی طرف جاتا ہے یا مذاکرات کی میز پر کوئی راستہ نکلتا ہے۔
ماخذ: اے ایف پی (گلف نیوز/ڈان لائیو)، رائٹرز (ڈیوڈسکورس)، ینے شفق — 26 اکتوبر 2026