عمران خان کی بہنوں کی رہائی درخواست نمٹا دی گئی
لاہور ہائیکورٹ نے پیر 26 اکتوبر کو پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی تین بہنوں کی رہائی کی درخواست نمٹا دی۔ عدالت کو پنجاب حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ تینوں بہنوں کی نظربندی میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی گئی ہے، جس کے بعد درخواست پر مزید کارروائی کی گنجائش نہیں رہی۔ علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں۔
عدالت میں کیا ہوا
جسٹس ابہر گل خان نے علیمہ خان کے بیٹے شاہریز کی درخواست کی سماعت کی، جس میں تینوں بہنوں کو عدالت میں پیش کرنے اور رہا کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ پنجاب حکومت کے وکیل فرخ لودھی نے ہوم سیکریٹری کی رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ بہنوں کی نظربندی میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی گئی ہے۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ نظربندی میں توسیع 7 اکتوبر کو کی گئی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل رانا مدثر عمر نے عدالت سے درخواست کی کہ تینوں خواتین کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ عدالت نے قرار دیا کہ نظربندی کا نوٹیفکیشن ڈپٹی کمشنر نے جاری کیا تھا، لیکن ڈپٹی کمشنر کو درخواست میں فریق نہیں بنایا گیا تھا، اس لیے عدالت درخواست کے دائرے سے باہر کوئی حکم جاری نہیں کر سکتی۔ اسی بنیاد پر عدالت نے ہوم سیکریٹری کی رپورٹ کی روشنی میں درخواست نمٹا دی۔
سماعت کے دوران پنجاب کے ہوم سیکریٹری اور کوٹ لکھپت جیل کے سپرنٹنڈنٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ عظمیٰ خان کے شوہر اور علیمہ خان کے بیٹے بھی عدالت میں موجود تھے۔
نظربندی کا پس منظر
علیمہ خان کو 20 ستمبر کو حراست میں لیا گیا تھا، جب کہ عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو اگلے روز حراست میں لیا گیا۔ تینوں بہنوں کو پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کے تحت کوٹ لکھپت جیل میں رکھا گیا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے گزشتہ ہفتے عدالت کو بتایا تھا کہ نظربندی کی 30 روزہ مدت 20 اکتوبر کو ختم ہو چکی تھی، اس کے باوجود بہنیں جیل میں ہیں۔
پنجاب حکومت کی جانب سے نظربندی میں توسیع کی خبر عمران خان کی بہنوں کی نظربندی میں 30 دن کی توسیع (https://niazitvnews.com/?p=2011) میں پہلے ہی شائع کی گئی تھی، اور لاہور ہائیکورٹ میں پیر کی سماعت اسی معاملے کا تازہ ترین اپ ڈیٹ ہے۔
پی ٹی آئی کا موقف
پی ٹی آئی رہنماؤں نے نظربندی میں توسیع کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہنوں کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ نہیں ہے، اس لیے انہیں حراست میں رکھنے کا جواز نہیں بنتا۔ دوسری جانب حکومت کا موقف ہے کہ نظربندی امن عامہ کے قانون کے تحت کی گئی ہے۔
عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں اور ان کے خلاف کئی مقدمات زیر سماعت ہیں، جنہیں وہ اور ان کی جماعت سیاسی نوعیت کے قرار دیتے ہیں۔ عمران خان کی جیل منتقلی سے متعلق خبر اور اس کی تردید کی تفصیل عمران خان کی اسلام آباد جیل منتقلی: خبر اور تردید کیا ہے؟ (https://niazitvnews.com/?p=1950) میں پڑھیں۔
آگے کیا ہوگا
لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے درخواست نمٹائے جانے کے بعد بہنوں کی رہائی کا معاملہ اب نظربندی کی مدت اور حکومتی فیصلوں سے جڑا ہوا ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اس فیصلے پر ردعمل آنے کا امکان ہے، اور آئندہ سماعتوں یا قانونی چارہ جوئی پر سب کی نظریں رہیں گی۔
ماخذ: آج انگلش، دی ہندو، ٹیلی گراف انڈیا — خبر کی تفصیلات متعلقہ اداروں کی رپورٹس سے لی گئی ہیں۔