عمران خان کی بہنوں کی نظربندی میں 30 دن کی توسیع

0

پنجاب حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی تینوں بہنوں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظربندی میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی ہے۔ یہ بات پیر 26 اکتوبر کو لاہور ہائیکورٹ میں سرکاری وکیل نے عدالت کو بتائی، جہاں بہنوں کی رہائی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہو رہی تھی۔

سرکاری وکیل نے عدالت میں پنجاب کے ہوم سیکریٹری کی تیار کردہ رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر نے پنجاب حکومت کو نظربندی میں توسیع کی تجویز بھیجی تھی، جسے حکومت نے منظور کر لیا۔ عدالت نے رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد درخواست نمٹا دی۔

تینوں بہنیں کب اور کیوں حراست میں لی گئیں؟

علیمہ خان کو 20 ستمبر کو لاہور میں مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) 1960 کی دفعہ 3 کے تحت حراست میں لے کر کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا تھا۔ اگلے روز ان کی بہنوں نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو بھی پولیس کی سفارش پر اسی قانون کے تحت حراست میں لیا گیا۔

یہ گرفتاریاں پی ٹی آئی کے ملک گیر احتجاج اور 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مجوزہ لانگ مارچ سے پہلے ہوئی تھیں۔ اس مارچ کا مقصد عمران خان کی رہائی اور آئین کی بالادستی کا مطالبہ تھا۔

درخواست میں کیا موقف اختیار کیا گیا؟

علیمہ خان کے بیٹے شاہریز خان نے 20 اکتوبر کو لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر کے اپنی والدہ اور خالاؤں کی نظربندی کو چیلنج کیا تھا۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ تینوں بہنوں کے نظربندی کے احکامات 19 اور 20 اکتوبر کو ختم ہو چکے تھے۔

گزشتہ سماعت پر عدالت نے پنجاب کے ہوم سیکریٹری اور کوٹ لکھپت جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو 28 اکتوبر کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ پیر کی سماعت میں دونوں افسران عدالت کے حکم کی تعمیل میں پیش ہوئے۔

حکومت کا کیا کہنا ہے اور درخواست گزار نے کیا مانگا؟

سماعت کے دوران پنجاب حکومت کے وکیل نے بتایا کہ تینوں بہنوں کی نظربندی میں توسیع 7 اکتوبر کو کی گئی تھی۔ دوسری جانب درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ علیمہ، عظمیٰ اور نورین کو بازیاب کرا کر عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔

عدالت نے مشاہدہ کیا کہ نظربندی کا نوٹیفکیشن ڈپٹی کمشنر نے جاری کیا تھا، لیکن درخواست گزار نے متعلقہ افسر کو کیس میں فریق نہیں بنایا تھا۔

پس منظر: عمران خان کی قید اور خاندان کے مطالبات

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اس کے بانی عمران خان اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی زیر حراست ہیں۔ پارٹی نے حالیہ بیانات میں بانی اور ان کی اہلیہ کو قانونی و بنیادی حقوق، اہل خانہ، وکلا اور پارٹی قیادت سے باقاعدہ ملاقاتوں اور مناسب طبی سہولتوں کی فراہمی کا مطالبہ دہرایا ہے۔

پی ٹی آئی نے بہنوں کی مسلسل نظربندی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب حکومت کا موقف ہے کہ نظربندی کے فیصلے قانون کے مطابق اور امن عامہ کے تحفظ کے لیے کیے جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں: عمران خان کی صحت پر پی ٹی آئی کا تشویش ناک بیان اور پی ٹی آئی کا وفاق سے مذاکرات کا ٹاسک گنڈاپور کے سپرد

ذرائع: جیو نیوز اور 24 نیوز کی 26 اکتوبر 2026 کی رپورٹوں کے مطابق۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *