میانوالی اسپتال بند ہونے کا دعویٰ غلط نکلا، فیکٹ چیک
میانوالی کے مدر اینڈ چائلڈ اسپتال کے بند ہونے کا سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا دعویٰ غلط نکلا ہے۔ جیو فیکٹ چیک کی تحقیق کے مطابق اسپتال بند نہیں ہوا بلکہ اسے توسیع دے کر میانوالی کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز (ڈی ایچ کیو) اسپتال میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جہاں تمام بڑے شعبے بدستور فعال ہیں۔
دعویٰ کیا تھا
سوشل میڈیا اور بعض پوسٹس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ میانوالی کے مدر اینڈ چائلڈ اسپتال کو بند کر دیا گیا ہے، اور یہ الزام بھی لگایا گیا کہ اسپتال کی شناخت موجودہ حکومت کے مطابق تبدیل کر دی گئی ہے۔ یہ دعویٰ فیس بک اور ایکس پر بھی شیئر کیا گیا، جس کے بعد جیو فیکٹ چیک نے اس کی آزادانہ تحقیق کی۔
حکام نے کیا بتایا
ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی میانوالی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر کاشف علی میانہ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال بند نہیں ہوا۔ ان کے مطابق پہلے مدر اینڈ چائلڈ اسپتال کے طور پر کام کرنے والی عمارت اب ڈی ایچ کیو اسپتال میانوالی کے طور پر فعال ہے، جس کی گنجائش تقریباً 450 بستروں تک بڑھا دی گئی ہے۔
اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر خلیل احمد نے بھی تصدیق کی کہ یہ ادارہ اس وقت ڈی ایچ کیو جنرل اسپتال میانوالی کے طور پر کام کر رہا ہے اور تمام بڑے شعبے فعال ہیں، جن میں گائناکالوجی اور پیڈیاٹرکس بھی شامل ہیں۔ جیو فیکٹ چیک نے آزادانہ طور پر بھی تصدیق کی ہے کہ اسپتال فعال ہے۔
اسپتال کی تاریخ
عوامی ریکارڈ کے مطابق مدر اینڈ چائلڈ اسپتال میانوالی 2019 میں تجویز کیا گیا تھا اور 2022 میں مکمل ہوا تھا۔ یہ منصوبہ زچہ و بچہ کی خصوصی صحت کی سہولت کے طور پر انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ اتھارٹی پنجاب کے ذریعے مکمل کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق پرانے ڈی ایچ کیو اسپتال کی سروسز اس نئی عمارت میں منتقل کی گئیں کیونکہ وہاں اضافی شعبوں اور مریضوں کے لیے کافی جگہ موجود تھی۔
فیصلہ: گمراہ کن
جیو فیکٹ چیک کا فیصلہ ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے۔ مدر اینڈ چائلڈ اسپتال بند نہیں ہوا، بلکہ اسے شہر کے ڈی ایچ کیو جنرل اسپتال کے طور پر دوبارہ منظم اور توسیع دی گئی ہے۔ شہریوں سے گزارش ہے کہ صحت کی سہولتوں سے متعلق خبریں شیئر کرنے سے پہلے مستند ذرائع سے تصدیق کر لیں۔
میانوالی میں سی ٹی ڈی آپریشن کی خبر یہاں پڑھیں اور کنڈیاں بس ٹریلر تصادم کی تفصیل یہاں دیکھیں۔
ذرائع: جیو فیکٹ چیک