آن لائن ہراسانی پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا بڑا حکم

0

اسلام آباد ہائی کورٹ نے آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور نجی مواد کی غیر مجاز تشہیر کے خلاف قوانین پر عمل درآمد کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے وفاقی حکومت، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) سے جامع رپورٹس طلب کر لی ہیں۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے ڈاکٹر رعنا احسن کی درخواست پر تحریری حکم جاری کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواست میں عوامی اہمیت کے اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں، جن میں آن لائن تحفظ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کا غلط استعمال، موجودہ ریگولیٹری نظام کی مؤثریت اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ شامل ہے۔

عدالت نے کیا حکم دیا؟

عدالت نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ بتائیں کہ آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور نجی مواد کی غیر مجاز اشاعت روکنے کے لیے قوانین پر کس حد تک عمل ہو رہا ہے۔ اداروں کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ شہریوں کی شکایات کا ازالہ کیسے کیا جا رہا ہے اور غیر قانونی مواد ہٹانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔

عدالت نے سیکریٹری داخلہ کو بھی ہدایت کی کہ وہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی، پیمرا، پی ٹی اے، این سی سی آئی اے اور دیگر متعلقہ محکموں کا مشترکہ اجلاس بلائیں۔ اس اجلاس میں اداروں کے درمیان رابطے کی خامیوں کی نشاندہی کی جائے گی، ہر ادارے کی قانونی ذمہ داری واضح کی جائے گی اور مؤثر عمل درآمد کے لیے ایک مربوط نظام تجویز کیا جائے گا۔ اجلاس کے بعد عمل درآمد کے ٹائم ٹیبل کے ساتھ مشترکہ رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے گی۔ عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 23 نومبر 2026 کو مقرر کر دی ہے۔

پی ٹی اے کے اعداد و شمار نے کیا بتایا؟

عدالت کے سامنے پی ٹی اے کی رپورٹ بھی پیش کی گئی، جس میں غیر قانونی مواد بلاک کرنے کی درخواستوں پر عمل درآمد کی شرح مختلف بتائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق سلامتی و دفاع سے متعلق معاملات میں عمل درآمد 59.01 فیصد، دہشت گردی سے متعلق مواد میں 79.51 فیصد، توہین عدالت میں 76.28 فیصد، اسلام کی عظمت کے خلاف مواد میں 76.54 فیصد، ہتک عزت اور نقالی کے کیسز میں 40.38 فیصد، فحاشی و اخلاقیات کے معاملات میں 98.91 فیصد اور فرقہ وارانہ یا نفرت انگیز تقاریر میں 67.43 فیصد رہا۔

پلیٹ فارم کے لحاظ سے بھی فرق واضح تھا۔ ایکس (سابق ٹوئٹر) پر عمل درآمد کی شرح 48.42 فیصد، فیس بک پر 78.57 فیصد، انسٹاگرام پر 79.52 فیصد، یوٹیوب پر 87.34 فیصد اور ٹک ٹاک پر 88.68 فیصد رہی۔ عدالت نے ان اعداد و شمار پر غور کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا متعلقہ ادارے اپنے قانونی اختیارات مؤثر طریقے سے استعمال کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا کمپنیوں کا عدم تعاون

پی ٹی اے نے عدالت کو بتایا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں سے رجسٹریشن کی شرائط پوری کرنے اور مقامی شکایات افسران مقرر کرنے کو کہا گیا تھا، لیکن اس پر کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔ رپورٹ کے مطابق کمپنیاں اکثر مواد ہٹانے کی درخواستیں اپنی کمیونٹی گائیڈ لائنز کا حوالہ دے کر مسترد کر دیتی ہیں، جس سے پی ٹی اے کے اختیارات محدود ہو جاتے ہیں۔

عدالت نے اس بات پر بھی توجہ دی کہ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون (پیکا) میں سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی گنجائش موجود ہے، جسے غیر قانونی مواد ہٹانے یا بلاک کرنے کے وسیع اختیارات حاصل ہوں گے۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ پہلے یہ جانچنا ضروری ہے کہ موجودہ ادارے اپنے موجودہ اختیارات کس حد تک استعمال کر رہے ہیں۔

شہریوں کے لیے اس حکم کا کیا مطلب ہے؟

یہ حکم ان ہزاروں شہریوں کے لیے اہم ہے جو آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ یا نجی تصاویر و ویڈیوز کی غیر مجاز اشاعت کا شکار ہوتے ہیں۔ اگر اداروں کے درمیان رابطہ بہتر ہوا اور شکایات کے ازالے کا نظام مؤثر بنا تو متاثرین کو فوری ریلیف مل سکے گا۔ دوسری طرف، اگر کمپنیاں مقامی افسران مقرر کرتی ہیں تو مواد ہٹانے کی درخواستیں تیزی سے نمٹائی جا سکیں گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ 23 نومبر کی سماعت اس معاملے میں فیصلہ کن ہو سکتی ہے، کیونکہ اس روز اداروں کی مشترکہ رپورٹ اور عمل درآمد کا ٹائم ٹیبل عدالت کے سامنے ہوگا۔

متعلقہ خبریں: این سی سی آئی اے کے ایک اور بڑے کیس کی تفصیل یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=1126 اور میر رضا کیس میں این سی سی آئی اے سمیت اداروں کی شمولیت کی خبر یہاں: https://niazitvnews.com/?p=1772

ماخذ: ڈان، دی نیوز، اے آر وائی نیوز اور 24 نیوز کی 27 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *