جنوبی افریقہ میں 510 فوجی تعینات، مہاجر مخالف مظاہرے
جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا نے مہاجر مخالف مظاہروں پر قابو پانے کے لیے ساحلی صوبے کوازولو نٹال میں 510 فوجی تعینات کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ صدارتی دفتر کے مطابق فوج پولیس کی مدد کرے گی اور یہ تعیناتی 9 اکتوبر سے 30 نومبر 2026 تک جاری رہے گی، جس پر تقریباً 34.1 ملین رینڈ (تقریباً 2.05 ملین ڈالر) خرچ آنے کا تخمینہ ہے۔
فوج بلانے کی وجہ کیا بنی؟
صدارتی دفتر کے بیان کے مطابق حالیہ تشدد کی وجہ آئینی عدالت کے پناہ گزینوں سے متعلق فیصلے کے بارے میں پھیلائی گئی غلط معلومات بنیں۔ رواں ماہ کوازولو نٹال کے سب سے بڑے شہر ڈربن اور جوہانسبرگ کے علاقے سوویٹو میں مظاہرے پرتشدد ہو گئے تھے، جن میں گاڑیاں جلائی گئیں اور دکانیں لوٹی گئیں۔ رائٹرز کے مطابق ڈربن میں گزشتہ ہفتے ایک غیر ملکی شہری کو مبینہ طور پر ہجوم نے مار ڈالا تھا۔ جنوبی افریقہ میں کئی ماہ سے مہاجر مخالف مارچ ہو رہے ہیں، جن میں سے بعض پرتشدد ہو چکے ہیں اور ہزاروں افریقی غیر ملکی شہری ملک چھوڑ چکے ہیں۔
آئینی عدالت کا فیصلہ کیا تھا؟
تنازع کی جڑ 7 جولائی کا آئینی عدالت کا فیصلہ ہے، جس میں پناہ گزینوں کے قانون کی وہ شقیں کالعدم قرار دی گئیں جو بعض پناہ گزینوں کو درخواستیں جمع کرانے سے روکتی تھیں۔ حکومت نے بعد میں وضاحت کی کہ اس فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ غیر ملکی شہریوں کو خودکار طور پر پناہ گزین کا درجہ، مستقل رہائش یا ملک میں رہنے کی اجازت مل گئی ہے۔ فیصلے میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ حکام کو پناہ کی درخواستوں کو ان کی خوبیوں پر پرکھنا ہوگا، نہ کہ صرف انتظامی شرائط پوری نہ ہونے پر مسترد کر دینا ہوگا۔ تاہم غلط معلومات کے پھیلاؤ نے یہ تاثر دیا کہ عدالت نے پناہ گزینوں کے لیے دروازے کھول دیے ہیں، جس سے مہاجر مخالف گروہ مشتعل ہوئے۔
آپریشن پراسپر کے تحت فوج کا کردار
جنوبی افریقی میڈیا کے مطابق فوجی دستے “آپریشن پراسپر” کے تحت جنوبی افریقی پولیس سروس کی مدد کریں گے اور مزید تشدد کی صورت میں الرٹ رہیں گے۔ صدر رامافوسا نے آئین کی دفعہ 201(2)(a) کے تحت تعیناتی کی منظوری دی اور قومی اسمبلی کی اسپیکر تھوکو ڈیڈیزا اور قومی کونسل کے چیئرپرسن رفیلوے متسوینی ٹسیپانے کو فیصلے سے آگاہ کیا۔ اس ماہ کے شروع میں حکومت نے بتایا تھا کہ کوازولو نٹال میں 25 اور گاؤٹینگ میں 5 افراد کو عوامی تشدد، غیر قانونی اجتماعات اور گرفتاری میں مزاحمت جیسے جرائم میں گرفتار کیا گیا تھا۔
بلدیاتی انتخابات سے پہلے کشیدگی
یہ تعیناتی 4 نومبر کے بلدیاتی انتخابات سے چند روز قبل ہوئی ہے، اور مہاجر مخالف گروہوں نے ملک گیر مظاہروں کی کال بھی دے رکھی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ انتخابات سے پہلے اس طرح کی کشیدگی سیاسی ماحول کو مزید خراب کر سکتی ہے، جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ قانون کی عملداری برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی جنوبی افریقہ میں مہاجر مخالف مظاہروں پر تنقید ہو رہی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ تشدد میں عام شہری اور چھوٹے تاجر سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
فوج 30 نومبر تک تعینات رہے گی، اور حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ اگر تشدد دوبارہ بھڑکا تو فوجی دستے فوری کارروائی کے لیے تیار رہیں گے۔ دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ غلط معلومات کے خلاف واضح آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ پناہ گزینوں کے بارے میں پھیلے ہوئے غلط تاثرات دور ہو سکیں۔
مزید پڑھیں: جرمنی میں کار ہجوم پر چڑھ گئی، 4 سے 5 افراد زخمی اور کیوبا پر امریکی پابندیوں کے خلاف اقوام متحدہ کی قرارداد۔
ذرائع: رائٹرز، دی ساؤتھ افریقن۔