وزیرستان میں افغان فائرنگ: ایک شہری جاں بحق، 5 زخمی
وزیرستان میں افغان فائرنگ: ایک شہری جاں بحق، 5 زخمی
جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی جانب سے شہری آبادی اور بازار پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک شہری جاں بحق اور پانچ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے بدھ 28 اکتوبر کو سینئر پاکستانی انتظامی عہدیدار کے حوالے سے یہ خبر دی ہے۔
کیا ہوا؟
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان نے منگل کے روز پاکستان کے وزیرستان کے علاقے میں شہری گھروں اور ایک بازار کو نشانہ بنایا۔ جنوبی وزیرستان لوئر کے ڈپٹی کمشنر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں اس فائرنگ کو “بلا اشتعال” قرار دیا اور کہا کہ پاکستانی فورسز اس کا “موثر اور بھرپور” جواب دے رہی ہیں۔
زخمیوں کو قریبی طبی مراکز منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ حکام کے مطابق علاقے میں صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور شہریوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
طالبان کا موقف
رائٹرز کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس واقعے پر فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ طالبان حکومت کا عمومی موقف یہ رہا ہے کہ عسکریت پسندی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے، جبکہ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ کابل ان عسکریت پسندوں کو پناہ دے رہا ہے جو سرحد پار حملے کرتے ہیں۔
انگور اڈا میں تازہ کشیدگی کا تسلسل
یہ واقعہ انگور اڈا کے علاقے میں جاری کشیدگی کے تسلسل میں سامنے آیا ہے، جہاں ایک روز قبل بھی پاک افغان سرحد پر شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا۔ انگور اڈا میں گزشتہ رات کی جھڑپ کی تفصیل یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2327 ۔ سرحدی علاقوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران کشیدگی میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے باعث سرحدی تجارت بھی شدید متاثر ہوئی ہے اور عام شہریوں کی زندگی مشکل ہو گئی ہے۔
پس منظر: برسوں پرانی کشیدگی
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات حالیہ برسوں میں عسکریت پسندی کے معاملے پر کشیدہ رہے ہیں۔ اسلام آباد کا الزام ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گرد پاکستان میں حملے کرتے ہیں، جبکہ کابل اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔ رائٹرز کے مطابق رواں سال کے دوران دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تنازع میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
چند روز قبل ہی افغان طالبان کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ پاکستان کے ساتھ مسائل سفارت کاری کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں، تاہم اس کے باوجود سرحد پر فائرنگ کے واقعات تھم نہیں سکے ہیں۔ پاکستان نے عالمی برادری اور علاقائی ممالک سے بھی اس معاملے پر توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔ پاکستان کے ایران بحران پر سفارتکاری کے موقف کی خبر یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2354 ۔
آگے کیا ہوگا؟
سرحدی صورتحال تاحال کشیدہ ہے اور دونوں جانب سے بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر فائرنگ کے واقعات جاری رہے تو علاقے میں انسانی اور تجارتی نقصان مزید بڑھ سکتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے سرحدی علاقوں میں شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ سفارتی سطح پر بھی رابطوں کی کوششیں جاری ہیں۔
ذرائع: رائٹرز، 28 اکتوبر 2026