ایف اے ٹی ایف اجلاس: بھارت پاکستان کو گھیرنے کی تیاری

0

بھارت پیرس میں شروع ہونے والے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے دو روزہ اجلاس میں پاکستان کے خلاف دہشت گرد گروہوں اور ان کی مالی معاونت کا معاملہ زور و شور سے اٹھانے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ اجلاس 28 اور 29 اکتوبر کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہو رہا ہے، جس میں 200 سے زائد ممالک اور اداروں کے نمائندے شریک ہیں۔

بھارت کا موقف

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی دہلی کا کہنا ہے کہ پاکستان دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی میں ناکام رہا ہے، اور جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر اور لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید جیسے افراد کے خلاف ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔ بھارت کے مطابق پہلگام حملے کی منصوبہ بندی میں بھی ان گروہوں کا کردار رہا ہے، جس کی تحقیقات بھارتی ادارے این آئی اے کر رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق بھارت اجلاس میں یہ نکتہ بھی اٹھائے گا کہ افغان طالبان نے حال ہی میں اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ مسعود اظہر افغانستان میں موجود ہیں، جس کے بعد اسلام آباد پر دباؤ بڑھا ہے کہ وہ اظہر کی موجودگی اور سرگرمیوں کے بارے میں واضح جواب دے۔

پاکستان کا حالیہ اقدام: انعام میں اضافہ

دوسری جانب پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے حال ہی میں اپنی “ریڈ بک” میں مسعود اظہر کو مفرور قرار دیتے ہوئے ان کی گرفتاری کی اطلاع پر انعام 50 لاکھ روپے سے بڑھا کر 70 لاکھ روپے کر دیا ہے۔ بھارتی حکام اسے عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں، جبکہ پاکستانی موقف یہ رہا ہے کہ ملک دہشت گردی کے خلاف کارروائی کر رہا ہے اور خود بھی دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار ہے۔

یاد رہے کہ اپریل 2022 میں پاکستان کی ایک انسداد دہشت گردی عدالت نے حافظ سعید کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے دو مقدمات میں مجموعی طور پر 33 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ بھارتی عدالت نے سعید کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ بھی جاری کر رکھا ہے، جو پاکستان کو بھجوایا جا چکا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کیا ہے؟

ایف اے ٹی ایف ایک عالمی نگران ادارہ ہے جو منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت اور پھیلاؤ کی مالی معاونت کے خلاف اقدامات کا جائزہ لیتا ہے۔ پاکستان کو اکتوبر 2022 میں اس کی گرے لسٹ سے نکال دیا گیا تھا، جب اس نے انسداد دہشت گردی مالی معاونت کے اقدامات مکمل کر لیے تھے۔ تاہم بھارت کا کہنا ہے کہ زمینی سطح پر ان اقدامات پر عمل درآمد ناکافی ہے۔

ایف اے ٹی ایف کا یہ اجلاس برطانیہ کے جائلز تھامسن کی صدارت میں پہلا مکمل اجلاس ہے، جس میں عالمی مالیاتی سالمیت اور سلامتی کو درپیش نئے خطرات پر بھی غور کیا جائے گا۔

پاکستان کا عمومی موقف

پاکستان اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز پر یہ موقف پیش کرتا رہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دے چکا ہے اور اس کے خلاف بھارت کے الزامات سیاسی مقاصد پر مبنی ہیں۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ بھارت خود افغانستان میں پراکسیز کی حمایت کے ذریعے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے، ایک ایسا الزام جسے نئی دہلی مسترد کرتا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفارتکاری پر زور دینے کی خبر یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2354 ۔

اجلاس سے کیا توقع ہے؟

تجزیہ کاروں کے مطابق اس اجلاس میں پاکستان کو فوری طور پر گرے لسٹ میں واپس ڈالنے کا کوئی فیصلہ متوقع نہیں ہے، کیونکہ ایف اے ٹی ایف کے فیصلے اتفاق رائے اور تکنیکی جائزوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ تاہم بھارت کی جانب سے دباؤ بڑھنے سے پاکستان کی انسداد دہشت گردی مالی معاونت کی کوششوں پر عالمی توجہ ضرور بڑھے گی۔

اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیے سے ہی واضح ہو سکے گا کہ پاکستان کے معاملے پر کیا پیش رفت ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے فورم پر ہونے والی حالیہ بحث کی خبر یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2379 ۔

ذرائع: ٹائمز ناؤ نیوز، نیوز بائٹس، دی ڈیلی جاگرن، 28 اکتوبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *