خضدار: ڈی آئی جی قافلے پر حملہ، 3 اہلکار زخمی
خضدار میں ڈی آئی جی خضدار رینج کے قافلے پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار زخمی ہو گئے، جبکہ ڈی آئی جی اور ایس ایس پی محفوظ رہے۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے کرکھ تحصیل میں گھات لگا کر فائرنگ کی اور جوابی فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے۔ اسی روز نوشکی کے گرلز ڈگری کالج میں فائرنگ سے تین طالبات بھی زخمی ہوئیں۔
خضدار میں قافلے پر گھات لگا کر حملہ
ڈان کی 28 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق ڈی آئی جی خضدار رینج عمران قریشی اور ایس ایس پی خضدار کرکھ پولیس اسٹیشن پر گزشتہ روز ہونے والے دھماکے کی جگہ کا معائنہ کرنے گئے تھے۔ واپسی کے دوران کرکھ تحصیل میں گھات لگائے مسلح افراد نے قافلے پر فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ سے تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ دونوں سینئر افسران محفوظ رہے۔ پولیس اہلکاروں کی جوابی فائرنگ پر حملہ آور فرار ہو گئے۔ زخمی اہلکاروں کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے اور تاحال کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
نوشکی گرلز کالج میں فائرنگ، تین طالبات زخمی
دوسرے واقعے میں نوشکی کے گرلز ڈگری کالج میں مسلح افراد نے فائرنگ کی جس سے تین طالبات زخمی ہو گئیں۔ نوشکی پولیس کے مطابق زخمی طالبات کو میر گل خان ناصر ٹیچنگ اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق تین نقاب پوش مسلح افراد کالج میں داخل ہوئے، نگرانی کے کیمرے توڑے اور پرنسپل کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی، پھر طالبات پر فائرنگ کر دی۔ زخمی طالبات کی شناخت مہمونہ، مریم اور رخسانہ کے نام سے ہوئی ہے، جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے اور اسے کوئٹہ ریفر کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ حملے کا مقصد تاحال واضح نہیں ہے اور پولیس تفتیش کر رہی ہے کہ آیا یہ ذاتی دشمنی کا واقعہ ہے یا دہشت گردی کی کارروائی۔
تعلیمی اداروں پر حملوں کی مذمت
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی سمیت طلبہ اور حقوق کی تنظیموں نے نوشکی کالج پر حملے کی شدید مذمت کی ہے اور زخمی طالبات کے لیے انصاف اور ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کے بیان میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں کو بار بار نشانہ بنایا جانا طلبہ میں خوف پیدا کر رہا ہے اور صوبے میں تعلیمی ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ اس سے قبل اساتذہ اور پروفیسرز کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور اب طالبات براہ راست حملوں کا شکار ہو رہی ہیں۔ حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی کے ناکافی انتظامات اور ملزمان کی عدم گرفتاری سے صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔
بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال
بلوچستان میں حالیہ ہفتوں کے دوران سیکیورٹی واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اسی ہفتے سیکیورٹی فورسز نے کچھی اور وڈھ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشنز کے دوران 9 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ مزید تفصیل یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2437 ۔ کوئٹہ میں علمائے کرام نے خودکش حملوں کے خلاف فتوے کی توثیق بھی کی تھی۔ مزید تفصیل یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2333 ۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خضدار اور نوشکی دونوں واقعات کی تحقیقات جاری ہیں اور علاقے میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
ذرائع: ڈان (28 اکتوبر 2026)، ٹریبیون انڈیا / بلوچستان پوسٹ۔