کوئٹہ: علمائے کرام نے خودکش حملوں کے خلاف فتویٰ کی توثیق کر دی

0

کوئٹہ میں مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام اور مختلف مذاہب کے رہنماؤں نے خودکش حملوں، دہشت گردی اور بے گناہ افراد کے قتل کے خلاف اجتماعی فتویٰ کی متفقہ طور پر توثیق کر دی ہے۔ اجلاس میں پیغام پاکستان کے بیانیے کی حمایت اور امن و بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات کا عزم بھی کیا گیا۔

جامعہ سلفیہ میں مشترکہ اجلاس

یہ اعلان کوئٹہ میں جامعہ سلفیہ دعوۃ الحق میں حکومت پاکستان کی قومی پیغام امن کمیٹی اور حکومت بلوچستان کی صوبائی پیغام امن کمیٹی کے مشترکہ اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین اور قومی پیغام امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کی۔

متفقہ اعلامیے میں شرکا نے اس بات کا اعادہ کیا کہ خودکش حملے حرام ہیں، بے گناہ افراد کا قتل ناجائز ہے اور دہشت گردی اسلام سمیت تمام مذاہب کی تعلیمات کے خلاف ہے۔

مذہب کے نام پر تشدد کا کوئی جواز نہیں

اعلامیے میں کہا گیا کہ کسی فرد، گروہ یا تنظیم کو مذہب، فرقے یا نظریے کے نام پر تشدد کرنے، ریاست کے خلاف مسلح کارروائی کرنے یا قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا حق حاصل نہیں۔

شرکا نے خواتین، بچوں، نوجوانوں اور طلبہ کو دہشت گردی اور خودکش حملوں میں استعمال کرنے کی شدید مذمت کی اور اسے مذہبی طور پر حرام، اخلاقی طور پر قابل مذمت اور انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ نوجوانوں کو گمراہ کر کے دہشت گردی کا آلہ بنانے والے انسانیت اور پاکستان کے مستقبل دونوں کے دشمن ہیں۔

امن و ہم آہنگی کے لیے مشترکہ کوشش

اجلاس میں امن، بین المذاہب ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھنے کا عزم کیا گیا۔ علمائے کرام نے کہا کہ پیغام پاکستان کا بیانیہ ملک میں امن کے لیے ایک مشترکہ بنیاد فراہم کرتا ہے۔

بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں اس اعلامیے کو اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں تمام مکاتب فکر اور مذاہب کے رہنما ایک پلیٹ فارم پر متفق نظر آئے۔

مزید تفصیلات کے لیے پڑھیں: بلوچستان میں یوم سیاہ، 10 بجے خاموشی اختیار اور کوئٹہ: ماں کا پولیس افسر پر بیٹے کے قتل کا الزام۔

ماخذ: اردو پوائنٹ، اے پی پی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *