فضل الرحمان: کے پی میں گورنر راج آئین کا غلط استعمال

0

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ آئین کا غلط استعمال ہے۔ بدھ 28 اکتوبر کو ایوان میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے آئینی شقوں کا سہارا لے کر صوبے میں اقتدار کی منتقلی “طاقت” کے ذریعے کی، عوامی رائے سے نہیں۔

قومی اسمبلی میں فضل الرحمان کا خطاب

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت کا موقف ہے کہ اس نے آئین کے مطابق اقدامات کیے، لیکن ان کے بقول “جس طرح قانون کا غلط استعمال ہوتا ہے، اسی طرح آئین کا بھی غلط استعمال ہوا ہے۔” انہوں نے کہا کہ انہیں خیبر پختونخوا کی حکومت سے اپنے تحفظات ہو سکتے ہیں، لیکن تبدیلی کا یہ طریقہ درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تبدیلی لانی ہو تو عوام کے پاس جانا چاہیے، نہ کہ “انقلاب لا کر سب کچھ الٹ پلٹ” کر دیا جائے۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے وزیر دفاع خواجہ آصف پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وہ آئین اور پارلیمنٹ کے تقدس کے تحفظ میں ناکام رہے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر دہشت گردی ہی معیار ہے تو بلوچستان میں ایسے اقدامات کیوں نہیں کیے گئے، جہاں ان کے بقول حالات اس سے بھی زیادہ سنگین ہیں اور کمشنرز کے اغوا جیسے واقعات پیش آئے۔

حکومت کا جواب: گورنر راج صرف چھ ماہ

فضل الرحمان کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج صرف چھ ماہ کے لیے نافذ ہے، اور ایمرجنسی صرف دہشت گردی سے متاثرہ چند اضلاع تک محدود ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ 11 اکتوبر کو یہ اقدامات اس لیے کیے گئے کیونکہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ سے “جان بوجھ کر الگ” ہو گئی تھی۔

یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 4 اکتوبر کو خیبر پختونخوا سے شروع ہوا تھا۔ اس مارچ کے مطالبات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان تک رسائی اور نئی سیاسی مذاکرات شامل تھے۔ فضل الرحمان نے ایوان میں بتایا کہ انہوں نے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی تھی اور وزیراعظم ہاؤس جا کر کابینہ کا اجلاس مؤخر کرنے کی تجویز بھی دی تھی، لیکن ان کے بقول اس وقت فیصلہ ہو چکا تھا۔

نیا میثاق جمہوریت کی تجویز

اپنے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے تمام سیاسی جماعتوں کو ملک کے لیے ایک نیا میثاق جمہوریت بنانے کی دعوت بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت تصادم چاہتی ہے تو وہ بھی تیار ہیں، لیکن حالات اس حد تک نہیں پہنچنے چاہئیں کہ فریقین ایک ساتھ بیٹھ بھی نہ سکیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی اختلافات مذاکرات اور باہمی افہام و تفہیم سے حل ہونے چاہئیں، تصادم سے نہیں۔

فضل الرحمان نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مشکل وقت میں موجودہ حکومتی جماعتوں کا ساتھ دیا تھا، اور پی ڈی ایم کے حوالے سے تبصرہ کیا کہ اس کا “سر ایک طرف اور دھڑ دوسری طرف” ہے۔ ایوان میں حکومتی ارکان کے ساتھ ہلکی پھلکی جملہ بازی بھی ہوئی، جس میں انہوں نے کہا کہ ان کے “ہاتھ لڑائی کے لیے کھجلا رہے ہیں”، جس پر حکومتی ارکان نے بھی اسی انداز میں جواب دیا۔

پس منظر: گورنر راج کیوں لگا؟

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی 11 اکتوبر 2026 کو نافذ کی گئی تھی۔ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت کے عدم تعاون کے باعث اٹھایا گیا، جبکہ اپوزیشن اور فضل الرحمان اسے غیر آئینی قرار دیتے ہیں۔ جے یو آئی (ف) پہلے بھی اس فیصلے کو مسترد کر چکی ہے اور اسے عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔ پی ٹی آئی کی 28ویں ترمیم سے متعلق تازہ پوزیشن یہاں پڑھیں اور گورنر راج پر پنجاب اسمبلی میں ہنگامے کی خبر یہاں دیکھیں

اب یہ معاملہ پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ عدالتوں میں بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے، اور آئندہ دنوں میں گورنر راج کی مدت اور ایمرجنسی کے دائرے پر سیاسی بحث مزید تیز ہونے کی توقع ہے۔

ذرائع: ڈان، ایکسپریس ٹریبیون، اردو پوائنٹ — 28 اکتوبر 2026 کی رپورٹس کے مطابق۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *