محمند میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور 2 پولیس اہلکار شہید
خیبر پختونخوا کے ضلع محمند میں پولیو ٹیموں کی حفاظت پر مامور 2 پولیس اہلکار منگل کو فائرنگ میں شہید ہو گئے اور ایک اہلکار زخمی ہو گیا۔ پولیس کے مطابق موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے پولیس کی گاڑی پر فائرنگ کی، جب اہلکار قریبی گاؤں میں پولیو ٹیموں کی حفاظت کے لیے جا رہے تھے۔ اسی دوران صوبے کے ضلع ٹانک میں مشتبہ عسکریت پسندوں نے 4 پولیو ورکرز کو اغوا کر لیا۔ دونوں واقعات ملک گیر انسداد پولیو مہم کے دوران پیش آئے، جس کا مقصد 97 زیادہ خطرے والے اضلاع میں تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا ہے۔
محمند میں حملہ کیسے ہوا؟
ڈان اور دی نیشن کے مطابق حملہ منگل کو محمند کی تحصیل پنڈیالی کے علاقے ڈاگ تمنزئی میں ہاشم کور پولیس چیک پوسٹ کے قریب ہوا۔ ہیڈکوارٹر ڈی ایس پی لیاقت علی نے بتایا کہ شہید اہلکاروں کی شناخت کانسٹیبل ظہور خان اور کانسٹیبل اربئی خان کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ زخمی اہلکار سپاہی صابر خان ہیں۔ پولیس کے مطابق اہلکار یخ ڈنڈ گاؤں کی طرف جا رہے تھے تاکہ وہاں پولیو ٹیموں کو سیکیورٹی فراہم کر سکیں۔ پولیس کی گاڑی میں اس وقت پولیو کا کوئی عملہ موجود نہیں تھا۔ حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے اور کسی گروپ نے تاحال حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
ٹانک میں 4 پولیو ورکرز کا اغوا
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کے بیان کے مطابق پیر کو ٹانک میں مشتبہ عسکریت پسندوں نے 4 پولیو ورکرز کو اغوا کر لیا۔ گورنر نے متعلقہ حکام کو ان کی محفوظ بازیابی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ بعض رپورٹس میں اغوا شدگان کو پولیو ورکرز اور بعض میں ان کی حفاظت پر مامور اہلکار بتایا گیا ہے، اس لیے ان کی درست شناخت کے بارے میں حکام کے مزید بیان کا انتظار ہے۔ تلاش کی کارروائیاں جاری ہیں۔
حکام کا ردعمل
صدر آصف علی زرداری نے فائرنگ کو انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت قرار دیا اور کہا کہ پولیو ٹیموں کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار قومی فریضہ انجام دے رہے ہیں اور ان کی قربانیاں فراموش نہیں کی جائیں گی۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی حملے کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے شہید اہلکاروں کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں۔
پولیو مہم اور پاکستان کا چیلنج
پاکستان نے پیر 2 نومبر سے ملک گیر انسداد پولیو مہم شروع کی ہے، جو 8 نومبر تک جاری رہے گی۔ خیبر پختونخوا میں چار روزہ ہم آہنگ مہم کے پہلے روز 27 اضلاع میں 48 لاکھ سے زائد پانچ سال سے کم عمر بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف ہے۔ رواں سال پاکستان میں پولیو کے 8 کیس رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں سے 6 خیبر پختونخوا اور 2 سندھ سے ہیں۔ تازہ ترین کیس ضلع خیبر کی 13 ماہ کی بچی میں سامنے آیا تھا۔ پاکستان اور افغانستان دنیا کے صرف دو ممالک ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس اب بھی موجود ہے۔ ماضی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس سے منسلک گروپ پولیو ٹیموں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: راولپنڈی میں ڈینگی کے کیس 86 ہو گئے اور لکی مروت میں پولیس آپریشن۔
ماخذ: ڈان، 4 نومبر 2026؛ دی نیشن، 4 نومبر 2026؛ دی ویک (اے ایف پی)، 4 نومبر 2026۔