راولپنڈی میں ڈینگی کے 2 نئے کیس، کل تعداد 86 ہو گئی

0

راولپنڈی میں ڈینگی کے 2 نئے کیس سامنے آنے کے بعد رواں سال ضلع میں مصدقہ کیسوں کی مجموعی تعداد 86 ہو گئی ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے مطابق اس وقت 11 مریض اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جن میں 4 مصدقہ کیس شامل ہیں، جبکہ اب تک ڈینگی سے کوئی موت رپورٹ نہیں ہوئی۔

اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں

ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی کی جانب سے 2 نومبر تک کی ڈینگی روک تھام اور کنٹرول بریف کے مطابق رواں سال اسپتالوں میں 6,433 مریضوں کی اسکریننگ کی گئی، جن میں سے 5,905 مشتبہ کیس سامنے آئے اور 86 کی تصدیق ہوئی۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2 نئے کیس رپورٹ ہوئے۔ اسپتالوں میں داخل 11 مریضوں میں سے 4 مصدقہ کیس ہیں اور اب تک کوئی موت نہیں ہوئی، جو اس بات کی علامت ہے کہ بروقت تشخیص اور علاج سے صورتحال قابو میں ہے، تاہم احتیاط اب بھی ضروری ہے۔

فیلڈ آپریشن اور لاروا کی نشاندہی

اتھارٹی کے مطابق ڈینگی کے خاتمے کے لیے 415 آؤٹ ڈور ٹیمیں اور 985 انڈور ٹیمیں میدان میں کام کر رہی ہیں، جو پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ساتھ رجسٹرڈ 17,859 ہاٹ اسپاٹس کی نگرانی کر رہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے کی کوریج کی شرح 99 فیصد رہی۔ لاروا کی سب سے زیادہ نشاندہی ڈھوک منگٹال میونسپل کارپوریشن راولپنڈی، نرار کہوٹہ، راولپنڈی کنٹونمنٹ اور داخلی کہوٹہ میں ہوئی، جہاں خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

خلاف ورزیوں پر کارروائی

معیاری طریقہ کار کی خلاف ورزیوں پر بھی سخت کارروائی جاری ہے۔ اب تک 2,798 مقدمات درج کیے گئے، 686 مقامات سیل کیے گئے، 2,331 چالان جاری ہوئے اور مجموعی طور پر 31 لاکھ 56 ہزار روپے جرمانے عائد کیے گئے۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ شہری گھروں میں کھڑا پانی ختم کریں، کولر، گملوں اور ٹینکیوں کو صاف رکھیں اور مچھر دانی و اسپرے کا استعمال کریں، کیونکہ ڈینگی مچھر صاف کھڑے پانی میں افزائش پاتا ہے۔

لاہور میں سموگ کی شدت بھی صحت کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے، جس کی تفصیل یہاں (https://niazitvnews.com/?p=3409) پڑھیں۔ بلوچستان میں پولیو مہم کے تحت 22 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف بھی جاری ہے: (https://niazitvnews.com/?p=3477

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بخار، سر درد، جسم میں درد اور آنکھوں کے پیچھے درد کی صورت میں فوری طور پر قریبی اسپتال سے رجوع کیا جائے اور خود علاج سے گریز کیا جائے۔ ڈینگی سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ مچھروں کی افزائش گاہوں کا خاتمہ اور ذاتی حفاظت ہے۔

ماخذ: اے پی پی / اردو پوائنٹ — 3 نومبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *