شرح سود 12 فیصد: کاروبار پر منفی اثرات کا خدشہ

0

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پالیسی ریٹ 11.5 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کرنے پر کاروباری طبقے نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مہنگے قرضے کاروباری سرگرمیوں، صنعتی پیداوار اور سرمایہ کاری کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ پاک انٹرنیشنل بزنس فورم (پی آئی بی ایف) کے مرکزی صدر ڈاکٹر مشتاق منگٹ اور مرکزی سیکرٹری جنرل محمد اعجاز تنویر نے 29 اکتوبر کو جاری مشترکہ بیان میں کہا کہ شرح سود میں اضافہ کاروبار کے لیے قرض لینا مہنگا کر دے گا۔

شرح سود میں اضافے کا فیصلہ کب ہوا؟

اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 26 اکتوبر کو پالیسی ریٹ میں 50 بیسز پوائنٹس کا اضافہ کیا تھا، جو 27 اکتوبر سے نافذ ہوا۔ کمیٹی کے 10 میں سے 9 ارکان نے اضافے کے حق میں ووٹ دیا۔ جون کے بعد مسلسل تین اجلاسوں میں شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی، اور یہ اس عرصے کے بعد پہلا اضافہ ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق فیصلے کا مقصد مہنگائی کی توقعات کو قابو میں رکھنا اور سپلائی کے جھٹکے کے اثرات کو وسیع قیمتوں تک پھیلنے سے روکنا ہے، تاکہ مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف کی حد میں لایا جا سکے۔

کاروباری طبقے کے خدشات کیا ہیں؟

پی آئی بی ایف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ شرح سود بڑھنے سے کاروبار کے پیداواری اخراجات بڑھیں گے، نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوگی اور صنعتی توسیع سست پڑ سکتی ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کو خاص طور پر دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ انہیں پہلے ہی سستے قرضوں تک محدود رسائی حاصل ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ مہنگائی پر قابو ایک اہم معاشی مقصد ضرور ہے، لیکن مانیٹری پالیسی میں قیمتوں کے استحکام اور معاشی نمو، سرمایہ کاری اور روزگار کے فروغ کے درمیان توازن ضروری ہے۔

رہنماؤں نے مزید کہا کہ پائیدار معاشی استحکام کے لیے مالیاتی نظم و ضبط، سرکاری اخراجات پر زیادہ کنٹرول، توانائی کی مستحکم قیمتیں، پیداواری لاگت میں کمی اور سپلائی چین میں بہتری بھی ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف شرح سود بڑھانا کافی نہیں، بلکہ مجموعی معاشی پالیسی میں ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔

مہنگائی اور معیشت کی صورتحال

اسٹیٹ بینک کے مطابق ستمبر میں صارفین کی مہنگائی سالانہ بنیاد پر 10.3 فیصد رہی، جو کمیٹی کی توقع سے زیادہ تھی۔ بنیادی مہنگائی بھی تقریباً 8.4 فیصد پر بلند رہی۔ توانائی اور گندم کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی بڑھنے کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے بتایا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں تنازع کی شدت اور توانائی کی بلند قیمتوں نے مہنگائی کے منظرنامے کو خراب کیا ہے۔

دوسری جانب مرکزی بینک نے رواں مالی سال کے دوران معاشی نمو 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان رہنے کی پیش گوئی برقرار رکھی ہے۔ گورنر کے مطابق برآمدات 32.5 ارب ڈالر، درآمدات 71 ارب ڈالر اور ترسیلات زر 45 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اگلا اجلاس 14 دسمبر 2026 کو ہوگا۔

عام آدمی اور کاروبار پر کیا اثر پڑے گا؟

شرح سود بڑھنے کا مطلب ہے کہ بینکوں سے قرض لینا مہنگا ہو جائے گا۔ کاروبار کے لیے نئی مشینری، خام مال یا توسیعی منصوبوں کی مالی اعانت مہنگی پڑے گی، جبکہ عام صارفین کے لیے گاڑیوں، گھروں اور ذاتی قرضوں کی قسطیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔ دوسری طرف بچت کرنے والوں کو بینک ڈپازٹس پر کچھ بہتر منافع مل سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مہنگائی قابو میں آتی ہے تو آئندہ اجلاسوں میں شرح سود میں کمی کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے، لیکن فی الحال کاروباری طبقہ محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔

مزید پڑھیں: پٹرول 377.91 روپے، ڈیزل 399.82 روپے فی لیٹر اور ورلڈ بینک کی بڑی وارننگ — مہنگائی 8.2 فیصد تک پہنچ جائے گی۔

ذرائع: دی نیشن، ایکسپریس ٹریبیون، جیو نیوز۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *