مکہ الائنس: ڈار کی سیکرٹری جنرل سے ملاقات، امن کی حمایت

0

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مکہ الائنس برائے دفاع کے پہلے سیکرٹری جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نعمان محمود سے ملاقات میں پاکستان کے علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ڈار نے 28 اکتوبر کو وزارت خارجہ اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں کہا کہ مکہ الائنس خطے میں پائیدار امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

ملاقات میں کیا بات ہوئی؟

دفتر خارجہ کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود نے نائب وزیراعظم سے وزارت خارجہ میں ملاقات کی۔ ڈار نے انہیں سیکرٹری جنرل کے عہدے پر تقرری کی مبارکباد دی اور ان کی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کامیابی کی خواہش ظاہر کی۔ ڈار نے کہا کہ اتحاد کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں مؤثر قیادت کی اہمیت ہے۔ ملاقات میں پاکستان کی سفارتی ترجیحات اور اتحاد کے علاقائی استحکام میں ممکنہ کردار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ڈار نے مہمان کو پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں سے بھی آگاہ کیا، جن کا مقصد علاقائی اور عالمی سطح پر امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار سفارتی روابط اور مربوط کوششوں سے استحکام مضبوط ہوتا ہے اور دیرپا امن کے لیے سازگار حالات پیدا ہوتے ہیں۔

مکہ الائنس کیا ہے؟

مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست 2026 کو طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ معاہدے کے تحت ریاض میں جنرل سیکرٹریٹ قائم کیا جا رہا ہے، جس کے پہلے سیکرٹری جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود مقرر ہوئے۔ اکتوبر کے اوائل میں ریاض میں اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں ان کی نامزدگی کی توثیق کی گئی تھی۔

صدر آصف علی زرداری نے 13 اکتوبر کو ایوان صدر میں نعمان محمود سے ملاقات میں کہا تھا کہ مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، کسی ملک کے خلاف نہیں اور نہ ہی یہ کوئی نیا بلاک بناتا ہے۔ صدر نے کہا تھا کہ یہ معاہدہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی رہنمائی میں دفاعی تعاون کے ذریعے علاقائی امن کو مضبوط کرے گا۔

پاکستان کا سفارتی کردار

پاکستان اس وقت خطے میں ایک پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے — ایک طرف ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں، دوسری طرف سعودی عرب کے ساتھ بڑھتے ہوئے سیکیورٹی تعلقات۔ اسی ہفتے کے اوائل میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران نے مکہ معاہدے کے فریم ورک کے تحت علاقائی سلامتی اور امن پر چار ملکی مکالمے (آر فور) کو جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا تھا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے مکہ الائنس، ایران اور سعودی حوثی تنازع سے متعلق بات چیت میں پیش رفت کا بھی اشارہ دیا تھا۔

اسلام آباد کا موقف مسلسل یہ رہا ہے کہ مکالمہ، سفارتکاری اور بین الاقوامی تعاون علاقائی چیلنجز سے نمٹنے اور تنازعات کو روکنے کے ضروری اوزار ہیں۔ ڈار کی نعمان محمود سے ملاقات اسی سفارتی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس میں پاکستان نے اتحاد کے ذریعے اجتماعی سلامتی اور مشترکہ کوششوں پر زور دیا ہے۔

مزید پڑھیں: مکہ دفاعی معاہدے کا نیا مرحلہ — ترکیہ سعودی عرب میں فوجی اہلکار تعینات کرے گا اور دوحہ میں “بدر معاہدے” پر دستخط — پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا دفاعی تعاون میں متحد۔

ذرائع: دی نیشن، ایکسپریس ٹریبیون، دفتر خارجہ پاکستان۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *