آئی سی سی کی آزادی کے تحفظ کے لیے یورپ متحرک
نیدرلینڈز اور اس کے یورپی شراکت دار امریکی پابندیوں کے باوجود عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی آزادی کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ڈچ وزیر خارجہ ٹام بیرینڈسن نے 29 اکتوبر کو کہا کہ یورپی یونین کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر عدالت کی آزادی کا تحفظ جاری رکھا جائے گا۔
ڈچ وزیر خارجہ نے کیا کہا؟
بیرینڈسن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یورپی شراکت داروں کے ساتھ مل کر آئی سی سی کی آزادی کے تحفظ کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے یورپی کمشنر ماریہ لوئس البوکرک سے عدالت کی حمایت میں یورپی کمیشن کے کردار پر تبادلہ خیال کیا۔ بیرینڈسن نے کہا کہ دونوں نے اس بات پر زور دیا کہ یورپی آپریٹرز کی جانب سے عدالت کو خدمات کی فراہمی جاری رہنی چاہیے۔
امریکا نے آئی سی سی پر پابندیاں کیوں لگائیں؟
واشنگٹن نے 9 اکتوبر کو آئی سی سی پر پابندیاں عائد کی تھیں، جس کے چند گھنٹے بعد ہی عدالت کی سابق جج نوی پلے کو 2026 کا نوبیل امن انعام دیا گیا تھا۔ عدالت نے ان پابندیوں کو قانون کی حکمرانی پر حملہ قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کیا تھا اور رکن ممالک سے عدالت کے کام کو جاری رکھنے کے اقدامات کرنے کی اپیل کی تھی۔
امریکا کا عدالت پر دباؤ اس وقت بڑھا جب آئی سی سی نے نومبر 2024 میں غزہ میں جنگی جرائم کے الزام میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ واشنگٹن نے اس سے قبل اگست میں عدالت کی صدر ٹوموکو اکانے سمیت ججوں اور پراسیکیوٹرز پر بھی پابندیاں لگائی تھیں۔
نوبیل انعام یافتہ جج کون ہیں؟
نوی پلے جنوبی افریقہ کی قانون دان ہیں، جنہوں نے 2003 سے 2008 تک آئی سی سی کے اپیل چیمبر میں خدمات انجام دیں۔ انہیں بین الاقوامی فوجداری انصاف کے شعبے میں کام پر 2026 کا نوبیل امن انعام دیا گیا۔ ان کے انعام کے اعلان کے چند گھنٹے بعد امریکا کی جانب سے عدالت پر پابندیوں نے عالمی سطح پر تنقید کو جنم دیا تھا۔
یورپ کے لیے یہ معاملہ کیوں اہم ہے؟
آئی سی سی کا صدر دفتر نیدرلینڈز کے شہر ہیگ میں ہے، اس لیے نیدرلینڈز میزبان ملک کے طور پر عدالت کے کام میں براہ راست دلچسپی رکھتا ہے۔ یورپی یونین کے رکن ممالک عدالت کے بانی حامیوں میں شامل ہیں، اور یورپی حکام کا کہنا ہے کہ عدالت کی آزادی بین الاقوامی قانون کی ساکھ کے لیے ناگزیر ہے۔ پابندیوں کے باوجود یورپی آپریٹرز کی خدمات جاری رکھنے پر زور اسی عزم کا اظہار ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا نے روانڈا کی وزارت دفاع پر پابندیاں لگا دیں اور امریکا: 25 ریاستوں کا ٹرمپ انتظامیہ پر فوڈ ایڈ مقدمہ۔
ذرائع: انادولو ایجنسی، عالمی فوجداری عدالت کے بیانات۔