اسرائیل انتخابات: نیتن یاہو بلاک 53 نشستوں پر، اکثریت نہ ملی

0

اسرائیل کے 2026 کے پارلیمانی انتخابات کی حتمی گنتی مکمل ہو گئی ہے۔ سرکاری نتائج کے مطابق وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے بلاک کو 120 رکنی کنیسٹ میں 53 نشستیں ملی ہیں، اپوزیشن بلاک کو 48 نشستیں ملی ہیں، اور عرب جماعتوں نے ریکارڈ 19 نشستیں حاصل کی ہیں۔ اس طرح کسی بھی بلاک کو حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت حاصل نہیں ہو سکی۔

حتمی گنتی میں کیا سامنے آیا

اسرائیل کی مرکزی الیکشن کمیٹی (سی ای سی) نے جمعرات 29 اکتوبر کو اعلان کیا کہ تمام ووٹوں کی گنتی مکمل ہو گئی ہے، جن میں ڈبل لفافوں والے ووٹ بھی شامل تھے جو عام طور پر آخر میں گنے جاتے ہیں۔ ان میں فوجیوں، قیدیوں، طبی عملے اور بیرون ملک تعینات نمائندوں کے ووٹ شامل ہوتے ہیں۔ یروشلم پوسٹ کے مطابق کمیٹی نے بتایا کہ نیتن یاہو بلاک نے اپنی برتری برقرار رکھی، جبکہ اپوزیشن بلاک حکومت کی تبدیلی کے خواہاں گروپوں پر مشتمل تھا۔

ہاریٹز کی رپورٹ کے مطابق 99 فیصد ووٹوں کے اندراج کے بعد بھی یہی تقسیم سامنے آئی تھی: نیتن یاہو بلاک 53، اپوزیشن 67 — جس میں عرب جماعتوں کی 19 نشستیں بھی شامل تھیں۔ این ڈی ٹی وی کی لائیو کوریج میں بھی 100 فیصد گنتی کے بعد یہی اعداد سامنے آئے: نیتن یاہو بلاک 53، اپوزیشن 48، عرب جماعتیں 19۔

لیکوڈ سب سے بڑی جماعت

نیتن یاہو نے بدھ کی صبح ہی اعلان کر دیا تھا کہ لیکوڈ اسرائیل کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔ جزوی نتائج کے مطابق لیکوڈ کو 11 لاکھ سے زائد ووٹ ملے، جو کل ووٹوں کا تقریباً 20.62 فیصد بنتے ہیں۔ نیتن یاہو کے بلاک میں اوٹزما یہودیت، یونائیٹڈ تورا یہودیت، شاس اور ریلیجیس زیونزم-زہوت شامل ہیں، جن کے مجموعی ووٹ تقریباً 41.96 فیصد رہے۔

اپوزیشن کی قیادت سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزن کوٹ کی یشار جماعت کر رہی تھی، جسے تقریباً 16.14 فیصد ووٹ ملے۔ ان کے ساتھ بی یاچد، ڈیموکریٹس اور اسرائیل بیتینو شامل ہیں۔ آئزن کوٹ نے نتائج کو نیتن یاہو حکومت کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ قرار دیا اور کہا کہ وہ حکومت کی تبدیلی کی کوششیں جاری رکھیں گے، حالانکہ ان کا بلاک بھی اکثریت سے دور ہے۔

عرب جماعتیں کنگ میکر

اس انتخاب کا سب سے بڑا حیران کن نتیجہ عرب جماعتوں کی ریکارڈ 19 نشستیں ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ عرب اسرائیلی جماعتوں نے اتنی بڑی تعداد میں نشستیں حاصل کی ہیں، اور اب حکومت سازی میں ان کا کردار فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔ تاہم کئی یہودی سیاسی رہنما عرب جماعتوں کے ساتھ وسیع تعاون کو مسترد کرتے ہیں، جس سے اپوزیشن کے لیے حکومت بنانے کا راستہ مشکل ہو گیا ہے۔

اسی تناظر میں غیر ملکی فنڈنگ کی تحقیقات بھی جاری ہے۔ مرکزی الیکشن کمیٹی کے چیئرمین جسٹس نوعم سولبرگ نے شِن بیت کے سربراہ ڈیوڈ زینی کو خط لکھ کر عرب ووٹرز کی شرکت پر اثر انداز ہونے کے لیے بیرونی فنڈنگ کے شبہات کی تحقیقات کی ہدایت کی تھی۔ نیتن یاہو کیمپ نے ان الزامات کو دباؤ کے طور پر استعمال کیا ہے، جبکہ عرب جماعتوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹنگ کی سالمیت برقرار رکھی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: اسرائیل انتخابات: شِن بیت غیر ملکی مداخلت کی تحقیقات کرے گا: https://niazitvnews.com/?p=2636

مزید پڑھیں: اسرائیل انتخابات سے قبل تازہ سروے: https://niazitvnews.com/?p=2377

آگے کیا ہوگا

نتائج کے بعد اسرائیل میں حکومت سازی کا عمل شروع ہو گا۔ صدر اسحاق ہرزوگ کسی رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے، لیکن 61 نشستوں کی اکثریت کے بغیر یہ عمل طویل اور پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ نیتن یاہو اس دوران نگراں وزیر اعظم کے طور پر برقرار رہیں گے، اور ماہرین کے مطابق نگراں حکومت کو بھی ایران کے ساتھ جنگ سمیت اہم اختیارات حاصل رہیں گے۔ اگر متعدد کوششوں کے بعد بھی حکومت نہ بن سکی تو اسرائیل کو اگلے سال کے اوائل میں ایک اور انتخاب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ انتخابات 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں کے بعد اسرائیل کے پہلے انتخابات تھے، جن کے بعد غزہ، لبنان اور ایران میں جنگیں ہوئیں۔ نتائج نے یہودی ووٹرز میں دائیں جانب جھکاؤ کی تصدیق کی ہے، جبکہ مرکز بائیں بازو کی جماعتیں اب ایک چھوٹی اقلیت میں رہ گئی ہیں۔

ذرائع: یروشلم پوسٹ، ہاریٹز، این ڈی ٹی وی، ٹریبیون، سیاسات — 29 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *