پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی کو وزیر اعلیٰ برقرار رکھا
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے جمعرات 29 اکتوبر کو جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن میں سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا کا وزیر اعلیٰ برقرار رکھا ہے۔ پارٹی کے مطابق آفریدی بانی چیئرمین عمران خان کی حمایت سے اس عہدے پر برقرار رہیں گے، حالانکہ وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر کے انہیں عہدے سے ہٹا دیا تھا۔
نوٹیفکیشن میں کیا کہا گیا
پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سہیل آفریدی پارٹی کے وزیر اعلیٰ رہیں گے اور اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پارٹی کے تمام اراکین، عہدیداروں، اراکین پارلیمنٹ اور عہدیداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ کی نامزدگی یا تبدیلی، یا کسی متبادل امیدوار پر غور کے حوالے سے کوئی اجلاس نہ بلائیں، کوئی ایجنڈا پیش نہ کریں اور نہ ہی اس موضوع پر بحث شروع کریں۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ متبادل امیدوار کی نامزدگی یا اس فیصلے میں تبدیلی کا اختیار صرف پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان کے پاس ہے، اور اس معاملے پر ان کا فیصلہ تمام اراکین کے لیے حتمی اور لازم ہوگا۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی جانب سے یہ نوٹیفکیشن سوشل میڈیا پر بھی شیئر کیا گیا۔
ایمرجنسی اور گورنر راج کا پس منظر
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج 11 اکتوبر کو نافذ ہوا تھا۔ صدر آصف علی زرداری نے وزیر اعظم شہباز شریف کے مشورے پر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت پی ٹی آئی کی زیر قیادت صوبائی حکومت کو معطل کر دیا تھا۔ وفاقی حکومت کا موقف تھا کہ صوبائی انتظامیہ عسکریت پسندی اور انسداد دہشت گردی کی پالیسی کے معاملے میں ناکام رہی ہے، جبکہ پی ٹی آئی نے اس الزام کو مسترد کر دیا تھا۔
اسی دن یہ خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ آفریدی کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جب 4 اکتوبر سے شروع ہونے والا لانگ مارچ صوابی کی جانب بڑھ رہا تھا۔ اس کے بعد سے پارٹی کے اندر اختلافات کی خبریں بھی گردش کرتی رہیں، اور بعض رہنماؤں کے درمیان آن لائن بیان بازی کی اطلاعات سامنے آئیں۔ پی ٹی آئی کا تازہ نوٹیفکیشن انہی قیاس آرائیوں کو ختم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
وارنٹ گرفتاری کا معاملہ
اس سے ایک دن پہلے، پشاور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ یہ وارنٹ 9 مئی کے ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں جاری ہوئے تھے، جس کی اگلی سماعت 4 نومبر کو مقرر ہے۔ پی ٹی آئی نے اس کارروائی پر بھی اعتراض کیا تھا۔
مزید پڑھیں: سہیل آفریدی سمیت 5 رہنماؤں کے وارنٹ جاری: https://niazitvnews.com/?p=2545
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا میں گورنر راج سے متعلق رپورٹ: https://niazitvnews.com/?p=2461
آگے کیا ہوگا
پی ٹی آئی کے نوٹیفکیشن کے بعد خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال مزید واضح ہونے کے بجائے دو متوازی دعوؤں میں بٹ گئی ہے: ایک طرف وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ صوبے میں گورنر راج نافذ ہے اور آفریدی کو ہٹا دیا گیا ہے، دوسری طرف پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ آفریدی ہی پارٹی کے وزیر اعلیٰ ہیں اور ان کی تبدیلی کا اختیار صرف عمران خان کے پاس ہے۔ آئندہ دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ صوبائی اسمبلی، عدالتوں اور وفاقی حکومت کے درمیان یہ معاملہ کس سمت جاتا ہے، اور کیا پی ٹی آئی کے اندر اس نوٹیفکیشن کے بعد قیاس آرائیاں واقعی تھم جاتی ہیں۔
ذرائع: دی ٹریبیون، ٹیلی گراف انڈیا — 29 اکتوبر 2026۔