ہرمز میں ٹینکر پر نامعلوم میزائل حملہ، عملہ محفوظ

0

برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر (یو کے ایم ٹی او) نے بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے ایک تیل بردار ٹینکر نامعلوم میزائل سے ٹکرا گیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق یہ اطلاع جمعرات 29 اکتوبر کی رات کو موصول ہوئی، جب ایک کمپنی کے سیکیورٹی افسر نے واقعے کی اطلاع دی۔ یو کے ایم ٹی او کے مطابق عملے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی کوئی ماحولیاتی اثر رپورٹ ہوا ہے۔

واقعہ کب اور کہاں پیش آیا

یو کے ایم ٹی او کی وارننگ کے مطابق ٹینکر آبنائے ہرمز سے باہر کی جانب سفر کر رہا تھا جب اسے نامعلوم میزائل نے نشانہ بنایا۔ انادولو ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ شام 7 بجے مقامی وقت (1600 گرینچ) پر پیش آیا۔ ایجنسی نے جہازوں کو علاقے میں احتیاط سے سفر کرنے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع دینے کی ہدایت کی ہے، جبکہ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

ڈان کی لائیو کوریج میں بھی 29 اکتوبر رات 11 بجے کے قریب یہی اطلاع درج کی گئی تھی کہ یو کے ایم ٹی او کو ایک ٹینکر کے نامعلوم میزائل سے ٹکرانے کی رپورٹ موصول ہوئی ہے۔ ابھی تک جہاز کا نام، اس کی قومیت یا سفر کی سمت کے بارے میں کوئی مصدقہ تفصیل سامنے نہیں آئی ہے، اور یہ بھی واضح نہیں ہے کہ حملہ کس نے کیا۔

اس سے پہلے کے واقعات سے تعلق

یہ واقعہ اسی ہفتے آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے واقعات کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔ اس سے پہلے یو کے ایم ٹی او نے عمان کے ساحل کے قریب خصب کے شمال میں ایک کشتی میں آگ لگنے اور ڈوبنے کی اطلاع دی تھی، جبکہ ایرانی انقلابی گارڈز کی بحریہ نے دعویٰ کیا تھا کہ تین تیل بردار جہاز جنوبی راستے پر بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے ہیں۔ ایرانی دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے، اور یہ بھی واضح نہیں ہے کہ آیا یہ تمام واقعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں یا الگ الگ ہیں۔

ایران نے فروری میں امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز پر پابندیاں سخت کر دی ہیں، اور تہران کا کہنا ہے کہ وہ اس گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول کرنا چاہتا ہے۔ ایران نے ان جہازوں پر حملوں کا بھی الزام لگایا ہے جن پر اس کے مقرر کردہ راستے سے ہٹنے کا شبہ ہوتا ہے۔ دوسری جانب امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی عائد کر رکھی ہے اور خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر تیل کی برآمدات جاری رکھنے میں مدد کر رہا ہے۔

پاکستان کے لیے اہمیت

پاکستان کے لیے آبنائے ہرمز کی صورتحال براہ راست اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ ملک کی تیل کی درآمدات کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس گزرگاہ میں کسی بھی رکاوٹ یا کشیدگی سے عالمی تیل کی قیمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے، جس کا اثر پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے۔ اسی ہفتے عالمی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے، اور پاکستان میں 30 اکتوبر سے ڈیزل کی قیمت میں 85 پیسے فی لیٹر اضافہ بھی ہو چکا ہے۔

مزید پڑھیں: ہرمز میں کشتی میں آگ لگ کر ڈوب گئی، ایران کا دعویٰ: https://niazitvnews.com/?p=2655

مزید پڑھیں: ایران قطر امن تجاویز کی تفصیل: https://niazitvnews.com/?p=2553

علاقائی کشیدگی کا پس منظر

آبنائے ہرمز دنیا کی تیل و گیس کی آمدورفت کے لیے سب سے اہم گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی تیل کی کھپت کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں اس گزرگاہ میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، اور جہازوں پر حملوں کی اطلاعات نے عالمی منڈیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق گرمیوں سے اب تک خلیجی ممالک کو آبنائے ہرمز کے ذریعے 1.5 ارب بیرل تیل برآمد کرنے میں مدد دی گئی ہے۔

یو کے ایم ٹی او نے جہازوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ علاقے میں احتیاط برتیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، اور جیسے ہی مزید مصدقہ تفصیلات سامنے آئیں گی، انہیں جاری کیا جائے گا۔

ذرائع: رائٹرز (بذریعہ ڈان، ڈیکن ہیرالڈ، ڈیو ڈسکورس)، یو کے ایم ٹی او، انادولو ایجنسی — 29 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *