بشریٰ بی بی، اسد قیصر کی ضمانت قبل از گرفتاری مسترد
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 29 اکتوبر 2026 کو بشریٰ بی بی، اسد قیصر، جنید اکبر، لطیف کھوسہ اور نعیم حیدر پنجوتھا سمیت کئی پی ٹی آئی رہنماؤں کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں مسترد کر دیں۔ عدالت نے یہ فیصلہ ان رہنماؤں کی مسلسل عدم حاضری کی بنیاد پر سنایا، جب کہ عدالت میں پیش ہونے والے ملزمان کی عبوری ضمانت میں توسیع کر دی گئی۔
عدالت میں کیا ہوا؟
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کی تقریباً 250 ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستوں پر سماعت کی۔ یہ درخواستیں احتجاج سے متعلق مقدمات میں دائر کی گئی تھیں۔ سماعت کے دوران جن رہنماؤں نے عدالت میں حاضری درج کرائی، ان کی عبوری ضمانت 11 فروری تک بڑھا دی گئی، جب کہ بار بار غیر حاضر رہنے والے رہنماؤں کی درخواستیں خارج کر دی گئیں۔
مسترد کی گئی درخواستوں میں بشریٰ بی بی، جنید اکبر، لطیف کھوسہ، نعیم حیدر پنجوتھا، اسد قیصر، علی زمان، ایمان وسیم، عاطف خان اور فضل محمد شامل ہیں۔ عدالت نے مزید کارروائی 11 فروری تک ملتوی کر دی۔
پیش ہونے والے رہنما
سماعت کے دوران پی ٹی آئی رہنما رؤف حسن اور شہریار آفریدی عدالت میں پیش ہوئے اور اپنی حاضری درج کرائی۔ عدالت نے حاضر ہونے والے پی ٹی آئی کارکنوں کی عبوری ضمانت میں 11 فروری تک توسیع کر دی۔ اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ جن رہنماؤں کی درخواستیں مسترد ہوئیں، وہ اب ان مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری کے تحفظ سے محروم ہو گئے ہیں۔
پس منظر
یہ مقدمات پی ٹی آئی کے احتجاج سے جڑے ہوئے ہیں، جن میں مبینہ طور پر سڑکیں بلاک کرنے اور سیکیورٹی انتظامات میں خلل ڈالنے کے الزامات شامل ہیں۔ اس سے پہلے ایک علیحدہ سماعت میں اسد قیصر کے حوالے سے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے 23 اکتوبر کو ان کے گرفتاری وارنٹ منسوخ کر دیے تھے، جب وہ اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے تھے، اور انسداد دہشت گردی عدالت نے انہیں سانگجانی احتجاج کیس میں 7 نومبر تک عبوری ضمانت دی تھی۔ تاہم 29 اکتوبر کی سماعت میں عدم حاضری پر ان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ واضح رہے کہ عدالت نے کسی ملزم کو مجرم قرار نہیں دیا ہے؛ یہ مقدمات ابھی زیر سماعت ہیں اور ملزمان کے خلاف الزامات پولیس اور استغاثہ کے مطابق درج ہیں۔
مزید پڑھیں: اسد قیصر کی عبوری ضمانت کی خبر یہاں پڑھیں اور پی ٹی آئی کی تازہ سیاسی صورتحال یہاں ملاحظہ کریں
ذرائع: ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے ذریعے اردو پوائنٹ، پاکستان پوائنٹ اور منٹ مرر کی 29 اکتوبر 2026 کی رپورٹوں کے مطابق۔