ایران کا 7 روزہ امن منصوبہ، وینس کا خط موصول

0

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران اپنے 7 روزہ امن منصوبے پر عملدرآمد کے لیے ثالثوں سے قریبی اور مسلسل رابطے میں ہے، اور آبنائے ہرمز کو اس منصوبے کے تحت ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔ عراقچی نے بدھ کی شب سوشل میڈیا پر یہ بیان دیا، جبکہ امریکا کی جانب سے نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر نئے حملوں کی تیاری کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔

7 روزہ منصوبہ کیا ہے؟

ایران کا یہ منصوبہ ستمبر میں قطر کے ذریعے امریکا تک پہنچایا گیا تھا۔ اس کے تحت امریکا ایران کے خلاف جارحیت ختم کرے گا، بحری ناکہ بندی اٹھائے گا، ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیاں نرم کرے گا اور منجمد اثاثے پانچ دن کے اندر جاری کرے گا۔ شرائط پوری ہونے پر ایران چھٹے دن آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھول دے گا اور ساتویں دن امریکا سے حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات بحال کرے گا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے جمعرات کو کہا کہ امریکا کا “کیرٹ اینڈ اسٹک” طریقہ تہران پر اثر انداز نہیں ہوگا اور امن مذاکرات میں پیش رفت صرف ایران کی سات شرائط تسلیم کیے جانے کے بعد ہی ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی شرائط ثالثوں کو بار بار اور واضح طور پر بتا دی گئی ہیں۔

وینس کا خط اور امریکی حملوں کی تیاری کی اطلاعات

ایرانی خبر ایجنسیوں تسنیم اور فارس نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ تہران کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا خط موصول ہو چکا ہے، مگر ابھی اس کا جواب نہیں دیا گیا۔ وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا تھا کہ وینس نے یہ خط صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایرانی سیکیورٹی سربراہ محسن رضائی کو بھیجا تھا، تاہم ٹرمپ نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے وینس کو ایران سے بات چیت کی ہدایت نہیں دی تھی۔

دوسری جانب ایسوسی ایٹڈ پریس نے دو سفارتکاروں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی عہدیداروں نے مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک اور علاقائی اتحادیوں کو خبردار کیا ہے کہ 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر نئے حملوں کے لیے تیار رہیں۔ خبر کے مطابق ٹرمپ نے حملوں کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا اور ان کا کہنا ہے کہ انتخابات سے پہلے کوئی حملہ نہیں ہوگا۔ اسرائیلی نشریاتی ادارے کان کے مطابق کم از کم 10 امریکی فوجی طیارے اسرائیل کے اوودا اور نیواتم اڈوں پر اترے ہیں، جبکہ مزید طیارے اردن، سعودی عرب اور قطر بھیجے گئے ہیں، مگر واشنگٹن کی جانب سے اس کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

قطر اور پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف

امریکا کے ترکیہ میں سفیر اور شام کے لیے خصوصی ایلچی ٹام بیرک نے سی این این سے گفتگو میں قطر اور پاکستان کو امریکا اور ایران کو دوبارہ سفارتکاری کے قریب لانے میں مدد کا سہرا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقائی اتحادیوں نے واشنگٹن اور تہران کے لیے کشیدگی کم کرنے کے عمل پر اتفاق کا موقع پیدا کیا ہے، مگر معاہدے کا راستہ ابھی غیر یقینی ہے۔

اسی دوران ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں سریرک کے قریب ایک امریکی ایم کیو-1 ڈرون کو مار گرایا ہے۔ یہ دعویٰ تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹ پر مبنی ہے اور اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کیے تھے، جن میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور سینئر فوجی کمانڈر مارے گئے تھے، اور یہ کشیدگی اب آٹھویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے۔

مزید پس منظر: ایران پر امریکی حملے کے آپشن پر سینٹ کام سربراہ کی بریفنگ https://niazitvnews.com/?p=2717 اور قطر کی ثالثی میں 7 روزہ معاہدے کی کوشش https://niazitvnews.com/?p=2538

ماخذ: چائنا ڈیلی، دی ٹریبیون (اے این آئی)، گلف نیوز، ٹائمز ناؤ — 30 اکتوبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *