ملتان میں رحمان بابا ایکسپریس پٹڑی سے اتر گئی: کم از کم 6 جاں بحق، 30 سے زائد زخمی — ریسکیو آپریشن جاری

0
Derailed passenger train coaches off tracks near bridge — file image / پٹڑی سے اتری مسافر ٹرین کی بوگیاں — فائل فوٹو

ملتان میں منگل 13 اکتوبر کی صبح رحمان بابا ایکسپریس کی تمام 14 بوگیاں شاہ شاہ پل کے قریب پٹڑی سے اتر گئیں — کم از کم 6 مسافر جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے (جیو نیوز/اے ایف پی)۔ ٹرین کراچی سے پشاور جا رہی تھی اور حادثہ صبح تقریباً 5:15 بجے پیش آیا۔ ریسکیو اہلکاروں کے مطابق 13 بوگیاں صاف کر دی گئی ہیں جبکہ ایک بوگی میں امدادی کام جاری تھا؛ زخمیوں کو فوری طور پر ملتان کے نشتر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انتظامیہ نے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

حادثے کیسے ہوا؟

ایک مسافر نے بتایا کہ سفر کے دوران روہڑی کے قریب کوچ نمبر 9 کے نٹ بولٹ کی مرمت کی گئی تھی (یہ دعویٰ ابھی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوا، اور یہ واضح نہیں کہ یہ مرمت حادثے سے منسلک ہے یا نہیں — جیو نیوز)۔ حادثے کی اصل وجہ کا ابھی سرکاری طور پر تعین نہیں ہوا۔ ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ ریلویز کے مطابق حتمی وجوہات پر بات کرنا ابھی قبل از وقت ہے، تاہم ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تحقیقات کے لیے تشکیل دے دی گئی ہے جو تمام شواہد جمع کر رہی ہے۔ ریلوے ٹریک کی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے اور متاثرہ ٹرین کے مسافروں کو متبادل بوگیاں فراہم کی گئی ہیں۔

وزیراعظم کا نوٹس

وزیراعظم شہباز شریف نے حادثے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے جاں بحق افراد کے خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو فوری طور پر بہترین طبی سہولتیں فراہم کی جائیں اور ریسکیو آپریشن تیز کیا جائے۔ صدر آصف علی زرداری نے بھی حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور فوری شفاف تحقیقات کا حکم دیا (نکتہ)۔

پاکستان ریلوے کے حادثات کی تاریخ

یہ حادثہ پاکستان ریلوے کے سنگین واقعات کی فہرست میں ایک اور اضافہ ہے۔ اگست 2023 میں نوابشاہ کے قریب ہزارہ ایکسپریس کے پٹڑی سے اترنے سے کم از کم 30 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد ریلوے کی حفاظت اور دیکھ بھال پر سوالات اٹھے تھے۔ پاکستان ریلوے کا تقریباً 7,500 کلومیٹر ٹریک سالانہ 8 کروڑ سے زائد مسافروں کو منتقل کرتا ہے۔

ماخذ: Geo News (AFP), The Hindu, UrduPoint

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *