ایلون مسک نے اڑنے والی ٹیسلا روڈسٹر متعارف کروا دی، ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار

0
نئی ٹیسلا روڈسٹر — SpaceX تھرسٹرز والی اڑنے والی کار، ٹیکساس میں رونمائی

ایلون مسک کی کمپنی ٹیسلا نے اپنی طویل عرصے سے منتظر اسپورٹس کار نئی ٹیسلا روڈسٹر متعارف کروا دی ہے جو صرف ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں 96 کلومیٹر (60 میل) فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے — اور حیران کن طور پر ہوا میں اڑ کر قلابازیاں کھانے کے بعد بحفاظت زمین پر اتر سکتی ہے۔

ٹیکساس میں شاندار مظاہرہ

گاڑی کی رونمائی 15 اکتوبر 2026 کو ٹیکساس میں SpaceX کے میک گریگر ٹیسٹ سائٹ پر منعقدہ ایک تقریب میں کی گئی۔ مظاہرے کے دوران سفید رنگ کی دو نشستوں والی گاڑی نے سکشن سسٹم کی مدد سے ایک ریمپ پر الٹی ہو کر سفر کیا، پھر ہوا میں بلند ہو کر گھومی اور قلابازیاں کھائیں، اور بلٹ ان تھرسٹرز کی مدد سے پہیوں کے بل زمین پر اتری۔ بعد ازاں گاڑی نے ایک ٹرک اور دیگر گاڑیوں کے اوپر سے چھلانگ لگائی اور ہوا میں بل کھاتی ہوئی دوسری جانب اتری۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایلون مسک نے کہا کہ یہ ٹیسلا اور SpaceX کے انجینئرز کی مشترکہ محنت کا نتیجہ ہے۔ مظاہرے سے قبل انہوں نے حاضرین کو خبردار بھی کیا تھا کہ کامیابی کی ضمانت نہیں۔

حیران کن خصوصیات

رفتار: 0 سے 60 میل (96.6 کلومیٹر) فی گھنٹہ صرف 0.81 سیکنڈ میں۔ ٹاپ اسپیڈ 230 میل فی گھنٹہ سے زائد۔ تھرسٹر سسٹم: SpaceX کے اشتراک سے تیار کردہ کولڈ گیس تھرسٹرز — 10 کمپریسڈ ایئر نوزلز اور 600 لیٹر کا ٹینک جو گاڑی خود ری چارج کر سکتی ہے۔ تین ماڈلز: Performance (دو نشستیں، تھرسٹرز کے بغیر)، Thrust (پچھلے تھرسٹرز کے ساتھ، محدود تعداد)، Rocket (سنگل سیٹ، اڑنے کی صلاحیت، صرف دعوت پر)۔ ریزرویشن: Performance کے لیے 50,000 ڈالر اور Thrust کے لیے 250,000 ڈالر ایڈوانس۔ پیداوار 2028 میں شروع کرنے کا ہدف۔

احتیاط بھی ضروری

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مظاہرے والی گاڑی ریموٹ کنٹرول سے چلائی گئی تھی — اس میں کوئی ڈرائیور موجود نہیں تھا۔ سڑکوں پر تھرسٹر فیچرز کے استعمال کی قانونی حیثیت بھی ابھی واضح نہیں۔ ٹیسلا کے سرمایہ کار جین منسٹر نے اسے “انجینئرنگ کا مظاہرہ جس کی کوئی تجارتی اہمیت نہیں” قرار دیا۔

واضح رہے کہ ٹیسلا نے اس سیکنڈ جنریشن روڈسٹر کا پروٹوٹائپ پہلی بار 2017 میں دکھایا تھا اور اس وقت 2020 میں ڈیلیوری کا وعدہ کیا تھا۔

ذرائع: Reuters, USA Today, Edmunds (16 اکتوبر 2026)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *