پولیو مہم 2 نومبر سے — بھکر میں 3,72,590 بچوں کو قطرے
بھکر میں 2 سے 5 نومبر 2026 تک انسداد پولیو مہم چلائی جائے گی، جس میں 5 سال سے کم عمر کے 3,72,590 بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ ضلعی انتظامیہ نے مہم کے انتظامات مکمل کر لیے ہیں اور اس مقصد کے لیے 1,500 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن کی تربیت بھی مکمل ہو چکی ہے۔
بھکر میں مہم کے انتظامات
سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق ڈپٹی کمشنر بھکر احسان علی جمالی نے جمعہ 30 اکتوبر کو مہم کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں چیف ایگزیکٹو آفیسر صحت ڈاکٹر مظہر عباس بلوچ نے شرکا کو بتایا کہ ضلع بھر میں 3,72,590 بچوں کو پولیو ویکسین دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ 1,500 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور ان کی تربیت مکمل کر لی گئی ہے، جبکہ ٹیموں کی حفاظت کے لیے جامع سیکیورٹی پلان بھی حتمی کر لیا گیا ہے۔ والدین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں تاکہ انہیں عمر بھر کی معذوری سے بچایا جا سکے۔
ملک بھر میں قومی مہم
بھکر کی مہم ملک گیر ذیلی قومی انسداد پولیو مہم کا حصہ ہے، جو 2 سے 8 نومبر 2026 تک 97 منتخب اضلاع میں چلائی جائے گی۔ قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق اس مہم میں ملک بھر میں تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف ہے۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے جمعہ کو اسلام آباد میں مہم کا افتتاح کیا اور کہا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ پاکستان کو آئندہ سال جون تک پولیو سے پاک کر دیا جائے۔ یہ سال 2026 کی پانچویں بڑی مہم اور تیسری ذیلی قومی مہم ہو گی، جس میں 2 لاکھ سے زائد فرنٹ لائن پولیو ورکرز حصہ لیں گے۔
پاکستان میں پولیو کی صورتحال
پاکستان اور افغانستان دنیا کے آخری دو ممالک ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس اب بھی موجود ہے۔ رواں سال پاکستان میں اب تک پولیو کے 7 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے 5 خیبر پختونخوا اور 2 سندھ میں سامنے آئے۔ جنوبی خیبر پختونخوا میں پولیو کی منتقلی حکام کے لیے خاص تشویش کا باعث ہے، اس لیے وہاں خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پولیو سے بچاؤ کا واحد مؤثر طریقہ ہر مہم میں ہر بچے کو قطرے پلانا ہے، کیونکہ ایک بھی بچہ چھوٹ جانے سے وائرس پھیلنے کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔
والدین کے لیے ہدایات
والدین کو چاہیے کہ وہ 2 سے 8 نومبر کے دوران پولیو ٹیموں سے تعاون کریں اور اپنے 5 سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو قطرے پلوائیں، چاہے بچے کو پہلے بھی قطرے پلائے جا چکے ہوں۔ اگر کسی وجہ سے ٹیم گھر نہ پہنچ سکے تو والدین قریبی صحت مرکز سے رابطہ کر کے بچے کی ویکسینیشن یقینی بنائیں۔ پولیو کے قطرے محفوظ ہیں اور ان سے بچے کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ اسے عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھتے ہیں۔ ملک میں کراچی میں پولیو کیس کے بعد ہنگامی اقدامات اور ڈاکٹروں کی یکم نومبر سے ملک گیر ہڑتال کی خبروں کے درمیان صحت کا نظام اس وقت خبروں میں ہے، لیکن پولیو مہم کا شیڈول برقرار ہے۔
ذرائع: اے پی پی بذریعہ اردو پوائنٹ، عرب نیوز اور 24 نیوز، 30 اکتوبر 2026۔